امریکاتازہ ترین

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ: ایران مذاکرات سے انکاری، خود کو مضبوط پوزیشن میں سمجھنے لگا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

واشنگٹن/تہران: امریکی انٹیلی جنس اداروں کی تازہ جائزہ رپورٹ کے مطابق ایران اس وقت جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادہ نہیں اور خود کو ایسی پوزیشن میں سمجھتا ہے جہاں وہ امریکی مطالبات تسلیم کیے بغیر لڑائی جاری رکھ سکتا ہے۔

امریکی حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایرانی قیادت کو یقین ہے کہ وہ میدان میں خاطر خواہ مزاحمت کر رہی ہے، اس لیے فوری طور پر کسی سمجھوتے کی ضرورت نہیں۔ تاہم ایران سفارتی رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند بھی نہیں کر رہا، بلکہ پس پردہ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کو امریکہ پر اعتماد نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کسی عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل حل چاہتا ہے، اور اسی بنیاد پر وہ مذاکرات پر غور کر سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی اور ایرانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے رابطے جاری ہیں، لیکن ان میں نہ تو جنگ بندی کی شرائط زیر غور ہیں اور نہ ہی فوری طور پر جنگ ختم کرنے پر کوئی پیش رفت ہو رہی ہے۔

iranian flag on broken wall and half usa united states of america flag, crisis trump president and iran for nuclear atomic risk war concept

ایک سینئر ایرانی ذریعے نے بھی واضح کیا کہ ایران صرف اسی صورت مذاکرات کرے گا جب امریکہ مکمل طور پر جنگ کے خاتمے پر سنجیدہ بات چیت کے لیے تیار ہو۔ اس کے برعکس امریکی قیادت کی جانب سے دیے گئے بیانات، خصوصاً سوشل میڈیا پر، تہران میں شکوک و شبہات کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی نئی قیادت نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے اس بیان کو “بے بنیاد اور غلط” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

قبل ازیں امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے کو بھی ایران نے مسترد کر دیا تھا، جسے ایرانی حکام نے یکطرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس منصوبے میں ایران کے بنیادی مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تھا، اس لیے اسے قابل قبول نہیں سمجھا گیا۔

موجودہ صورتحال میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی برقرار رہی تو جنگ طول پکڑ سکتی ہے، جبکہ سفارتی کوششیں بھی تعطل کا شکار رہنے کا خدشہ ہے۔ ایسے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات گہرے ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button