(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی انٹیلی جنس اداروں کی ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین ایران کو ممکنہ طور پر اسلحے کی فراہمی کے لیے تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ معلومات حساس ذرائع اور نگرانی کے ڈیٹا کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔
واشنگٹن کو شبہ ہے کہ بیجنگ اور تہران کے درمیان دفاعی تعاون میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے، اور ممکنہ طور پر اس میں جدید ہتھیاروں یا دفاعی سازوسامان کی منتقلی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کسی باضابطہ معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
چین کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ایران پہلے ہی اپنے دفاعی پروگرام کو خود مختار قرار دیتا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام اس پیش رفت کو خطے میں طاقت کے توازن کے لیے ایک اہم عنصر قرار دے رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر چین اور ایران کے درمیان اس نوعیت کا تعاون بڑھتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ خاص طور پر امریکا اور اس کے اتحادی اس صورتحال کو قریبی نگرانی میں رکھے ہوئے ہیں۔
موجودہ حالات میں بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون عالمی سطح پر نئے اتحادوں اور کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہوں گے۔