ایرانتازہ ترین

ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل کیوں نہیں گراسکتا؟

ایرانی میزائلوں کے وہ خفیہ راز جو ہر کوئی جاننا چاہتا ہے؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
ترک صحافی تجزیہ کار ڈاکٹر مہمت جان‌بیکلی کا کہنا ہے کے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کے میزائل پروگرام پر ایک نئی بحث سامنے آئی ہے، جہاں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر یہ میزائل بڑے پیمانے پر عمارتیں تباہ نہیں کرتے تو پھر انہیں اتنا خطرناک کیوں سمجھا جاتا ہے؟

ترک تجزیہ کار ڈاکٹر مہمت جان‌بیکلی کے مطابق ایران کے بعض جدید میزائل روایتی تباہی کے بجائے ایک مختلف اسٹریٹجک مقصد کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جسے ماہرین "لاگت بڑھانے اور دفاعی نظام کو تھکانے کی حکمت عملی” قرار دیتے ہیں۔

میزائل کی نوعیت اور حکمت عملی
ماہرین کے مطابق ایران کے کچھ بیلسٹک میزائل، جیسے "خرمشہر” سیریز، ایک ہی میزائل میں متعدد چھوٹے وار ہیڈز (انشطاری حصے) لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب یہ میزائل فضا میں داخل ہوتے ہیں تو کئی حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، جس سے ایک ہی وقت میں متعدد اہداف پیدا ہو جاتے ہیں۔

یہی خصوصیت دفاعی نظام کے لیے بڑا چیلنج بن جاتی ہے، کیونکہ ہر وار ہیڈ کو الگ ہدف سمجھ کر روکنا پڑتا ہے۔

دفاعی نظام کے لیے چیلنج کیوں؟
اسرائیل کے دفاعی نظام جیسے آئرن ڈوم، ایرو اور ڈیوڈ سلنگ مختلف اقسام کے خطرات کے لیے بنائے گئے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق جب بیک وقت درجنوں تیز رفتار اہداف سامنے آئیں تو انہیں مکمل طور پر روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر مہمت جان‌بیکلی کے مطابق اگر ایک میزائل کئی حصوں میں تقسیم ہو جائے تو اسے روکنے کے لیے بڑی تعداد میں انٹرسیپٹر میزائل درکار ہوتے ہیں، جس سے نہ صرف تکنیکی دباؤ بڑھتا ہے بلکہ لاگت بھی غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے۔

کم تباہی، مگر زیادہ مؤثر اثر
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان چھوٹے وار ہیڈز کا مقصد بڑے پیمانے پر عمارتیں گرانا نہیں بلکہ مخصوص اہداف کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ یہ تیز رفتاری کے ساتھ عمارتوں کی چھت یا اوپری حصے کو توڑ کر اندر داخل ہوتے ہیں، جہاں محدود مگر مؤثر نقصان پہنچاتے ہیں۔

یعنی بظاہر کم تباہی کے باوجود یہ ہتھیار انسانی نقصان اور اہم تنصیبات کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

معاشی اور اسٹریٹجک دباؤ
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے حملوں کا ایک بڑا مقصد دشمن کے دفاعی نظام کو مالی اور تکنیکی طور پر تھکانا بھی ہوتا ہے۔ ایک طرف سستے یا درمیانی لاگت کے میزائل، جبکہ دوسری طرف مہنگے انٹرسیپٹر سسٹمز — یہ عدم توازن طویل جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ہائپرسونک خطرہ
مزید برآں، ایران کے جدید ہائپرسونک میزائل پروگرام کو بھی اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق انتہائی تیز رفتار میزائل، جن کی رفتار آواز سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے، موجودہ دفاعی نظاموں کے لیے مزید بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام کو صرف روایتی تباہی کے پیمانے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کے پیچھے ایک وسیع اسٹریٹجک سوچ کارفرما ہے، جس کا مقصد نہ صرف فوری نقصان پہنچانا بلکہ طویل مدت میں دفاعی نظام کو کمزور کرنا بھی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اگرچہ ان میزائلوں کے اثرات ہمیشہ بڑے دھماکوں کی صورت میں نظر نہیں آتے، لیکن ان کی اسٹریٹجک اہمیت اور ممکنہ خطرات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button