تازہ ترین

کیا ایران امریکہ کے لیے ایک نیا ‘شاہی جال’ ثابت ہو رہا ہے؟ فريد زكريا کا انتباہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

معروف عالمی تجزیہ کار اور مصنف فريد زكريا نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ امریکہ کے لیے ایک نیا "شاہی جال” (Imperial Trap) ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، تاریخ گواہ ہے کہ عظیم طاقتیں اکثر دور دراز کے، کم اہمیت والے لیکن انتہائی مہنگے علاقائی تنازعات میں الجھ کر اپنی توانائی اور وسائل برباد کر دیتی ہیں، جس سے ان کی توجہ اصل سٹریٹجک چیلنجز سے ہٹ جاتی ہے۔

تاریخ کا سبق: برطانوی سلطنت کی مثال

واشنگٹن پوسٹ میں اپنے تازہ کالم میں، فريد زكريا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ میں دوبارہ فوجی مداخلت کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے اس کا موازنہ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں برطانوی سلطنت کی پالیسی سے کیا، جو اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور تھی۔

برطانیہ اس وقت عالمی معیشت کا چوتھائی حصہ کنٹرول کرتا تھا اور اس کا مالیاتی مرکز لندن پوری دنیا کی معیشت کا محور تھا۔ تاہم، برطانوی قیادت خود کو سوڈان، صومالیہ، عراق اور اردن جیسے دور دراز علاقوں میں مقامی تنازعات میں مسلسل الجھاتی رہی۔ اگرچہ یہ مداخلتیں اس وقت "ضروری” معلوم ہوتی تھیں، لیکن انہوں نے برطانیہ کے وسائل کو نچوڑ لیا اور قیادت کی توجہ اہم مسائل سے ہٹا دی۔ ننیجہ یہ نکلا کہ برطانیہ علاقائی جنگوں میں الجھا رہا جبکہ اس کے حریف اپنی بنیادی طاقت کو مضبوط کرتے رہے۔

امریکہ کی غلطی: عراق اور افغانستان سے سبق نہ سیکھنا

زكريا یاد دلاتے ہیں کہ امریکہ کے اندر گزشتہ 15 سالوں سے یہ احساس بڑھ رہا تھا کہ ملک مشرق وسطیٰ میں حد سے زیادہ ملوث ہو گیا ہے۔ عراق، افغانستان اور لیبیا کے تجربات نے ثابت کیا کہ ریاستیں اور معاشرے دوبارہ بنانا کتنا مشکل اور مہنگا عمل ہے۔ اس لیے یہ رائے زور پکڑ رہی تھی کہ امریکہ کی حقیقی اولویتیں ملک کے اندر ہونی چاہئیں—اپنی صنعتی بنیاد کو دوبارہ تعمیر کرنا—اور باہر، اصل سٹریٹجک چیلنج، یعنی چین کے عروج پر توجہ مرکوز کرنا۔

اس کے باوجود، امریکہ کا ایک بار پھر خطے میں جنگ کی طرف واپس آنا فريد زكريا کے لیے حیران کن ہے۔ یہ قدم پچھلی مداخلتوں کے نتائج کو دہرانے کا خطرہ رکھتا ہے، جنہوں نے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کیے۔

اصل سٹریٹجک چیلنج: چین اور روس

فريد زكريا کے مطابق، امریکہ کے لیے حقیقی چیلنج چین اور روس کی بڑھتی ہوئی طاقت ہے۔ چین جدید ترین ٹیکنالوجی کی ترقی پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، جو مستقبل میں عالمی طاقت کا توازن متعین کرے گی۔ جبکہ روس، یورپی سیکیورٹی اور مغربی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کے لیے ہائبرڈ جنگ (Hybrid Warfare) کے طریقوں کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔

مشرق وسطیٰ میں دوبارہ الجھنے سے امریکہ ان بڑے اور طویل مدتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو سکتا ہے۔ ایسی "چھوٹی جنگیں” شروع میں آسان اور تیز معلوم ہوتی ہیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ طویل، پیچیدہ اور بے انتہا وسائل مانگنے والی بن جاتی ہیں۔

عظیم طاقتوں کے زوال کی اصل وجہ

رپورٹ کا نچوڑ ایک اہم تاریخی سبق پر مبنی ہے: عظیم طاقتیں شاذ و نادر ہی براہ راست عسکری شکست کی وجہ سے گرتی ہیں۔ ان کا زوال اکثر "حد سے زیادہ پھیلاؤ” (Overstretch) اور کم اہمیت والے تنازعات میں ملوث ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، جو ان کے وسائل کو ختم کر دیتے ہیں اور انہیں ان کی بنیادی طاقت پر توجہ مرکوز کرنے سے روکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button