
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں دبئی کی اسٹاک مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو کر “بیئر مارکیٹ” میں داخل ہو گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دبئی فنانشل مارکیٹ کا مرکزی انڈیکس فروری کی بلند ترین سطح سے 20 فیصد سے زائد گر چکا ہے، جو کسی بھی مارکیٹ کے لیے خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دبئی کا مرکزی انڈیکس 10 فروری کو تقریباً 6,785 پوائنٹس کی سطح پر تھا، جو کم ہو کر 13 مارچ تک تقریباً 5,392 پوائنٹس تک آ گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ واضح کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار خطے میں جاری تنازع کے باعث محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
مارکیٹ میں سب سے زیادہ دباؤ بینکنگ اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں پر دیکھا گیا، جہاں بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ سیاحت، ایوی ایشن اور کاروباری سرگرمیوں سے منسلک کمپنیوں کے حصص بھی متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ سیکیورٹی خدشات کے باعث سفر اور سرمایہ کاری کے رجحانات میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگی ماحول میں سرمایہ کار عام طور پر محفوظ سرمایہ کاری کی طرف جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹس پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ دبئی مارکیٹ میں حالیہ دنوں میں مسلسل گراوٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے پریشان ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف دبئی بلکہ دیگر خلیجی معیشتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں، خاص طور پر وہ شعبے جو بیرونی سرمایہ کاری، تجارت اور سیاحت پر انحصار کرتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور تجارتی راستوں پر خطرات بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حالات میں بہتری آتی ہے تو مارکیٹ میں تیزی سے بحالی بھی ممکن ہے، کیونکہ دبئی کی معیشت بنیادی طور پر مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ تاہم فی الحال سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
دبئی اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ گراوٹ ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات معیشت تک پہنچ چکے ہیں، جہاں غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے اور اہم شعبے دباؤ کا شکار ہیں۔



