ایرانتازہ ترین

ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی فوجی کارروائی 100 دن تک جاری رہ سکتی ہے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
امریکی جریدے پولیٹیکو کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں طویل مدت تک جاری رہ سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کی ایک داخلی دستاویز سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ آپریشن کم از کم 100 دن تک جاری رہ سکتا ہے اور ممکنہ طور پر ستمبر تک بھی بڑھ سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے پینٹاگون سے درخواست کی ہے کہ فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر میں مزید فوجی انٹیلی جنس افسران تعینات کیے جائیں تاکہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کو طویل مدت تک مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔

اس سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کی مدت میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپریشن اب ممکنہ طور پر آٹھ ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ ابتدائی طور پر اسے چار سے پانچ ہفتوں کے اندر مکمل کرنے کی بات کی جا رہی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس سے پہلے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے تقریباً چار سے پانچ ہفتوں کا وقت تجویز کیا تھا، تاہم تازہ رپورٹس کے مطابق حالات کے پیش نظر اس مدت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

خطے میں کشیدگی میں اضافہ

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کا سلسلہ گزشتہ ہفتے سے جاری ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ متعدد ایرانی رہنماؤں اور شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ فوجی مہم طویل مدت تک جاری رہی تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطہ ایک طویل اور پیچیدہ تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button