ایران کے خلاف ممکنہ تصادم: اسرائیلی تجزیہ، ایرانی انتباہات اور خطے میں بڑھتی کشیدگی

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سابق اسرائیلی فوج کے ایک سینئر افسر نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے چار مختلف منظرنامے پیش کیے ہیں، جو محدود حملے سے لے کر مکمل علاقائی جنگ تک کے امکانات کا احاطہ کرتے ہیں۔ دفاعی مبصرین کے مطابق یہ تجزیہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں خطرات کو اب زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔

سابق اسرائیلی فوجی افسر کے مطابق پہلا منظرنامہ محدود نوعیت کے حملے پر مشتمل ہو سکتا ہے، جس میں ایران کی جوہری تنصیبات یا دیگر اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جائے۔ دوسرے منظرنامے میں وسیع پیمانے پر فضائی اور میزائل حملے شامل ہو سکتے ہیں، جن کا مقصد ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور انفراسٹرکچر کو کمزور کرنا ہو گا۔
تیسرے منظرنامے میں ایران کی جانب سے سخت ردِعمل کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس میں پراکسی گروپس کے ذریعے علاقائی حملے، سمندری راستوں میں کشیدگی یا تیل کی ترسیل میں خلل شامل ہو سکتا ہے۔ جبکہ چوتھا اور سب سے خطرناک منظرنامہ ایک مکمل علاقائی جنگ کا ہے، جس میں متعدد ممالک ملوث ہو سکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ادھر ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے امریکی فوجی اڈوں، جن میں الظفرہ ایئر بیس اور دیگر تنصیبات شامل ہیں، کی تصاویر شائع کی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان تصاویر کی اشاعت کو ایک بالواسطہ پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ کسی بھی جنگ کی صورت میں یہ اہداف ایران کی نظر میں ہو سکتے ہیں۔

سیاسی محاذ پر ایرانی پارلیمان کے نائب اسپیکر علی مطہری نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں اپنی ’’سرخ لکیر‘‘ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے مطابق ان سرخ خطوط میں یورینیم افزودگی کا حق، میزائل پروگرام اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی حمایت شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ان امور کو اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ بیانات اور عسکری تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، لیکن فریقین ایک دوسرے کو سخت پیغامات دے رہے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کسی بھی غلط اندازے یا محدود واقعے کے نتائج پورے خطے کو ایک بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایران، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے درمیان طاقت کا توازن نہایت نازک مرحلے میں ہے، جہاں فیصلے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔



