
( تازہ حالات خصوصی رپورٹ)امریکہ نے ایرانی طرز کے خودکش ڈرون کے مقابلے میں اپنا کم لاگت ون وے اٹیک ڈرون “لوکاس” مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ڈرون ایرانی شاہد ایک سو چھتیس ماڈل کی ٹیکنالوجی کو ریورس انجینئر کر کے تیار کیا گیا ہے، جسے امریکہ نے چند برس قبل قبضے میں لیا تھا۔
تیاری اور پس منظر
اطلاعات کے مطابق امریکی ریاست ایریزونا کی کمپنی اسپیکٹر ورکس نے اس ڈرون کو تیار کیا۔ کمپنی کا ماڈل ایف ایل ایم ایک سو چھتیس بھی ایرانی شاہد ڈرون کی نقل سمجھا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کم لاگت، تیز رفتار اور بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا حملہ آور نظام تیار کرنا تھا۔

قیمت اور معاشی پہلو
لوکاس ڈرون کی فی یونٹ قیمت تقریباً پینتیس ہزار ڈالر بتائی جاتی ہے، جو امریکی معیاری جنگی ڈرونز کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ مثال کے طور پر ایم کیو نائن ریپر ڈرون کی قیمت کروڑوں ڈالر تک پہنچتی ہے۔ دفاعی مبصرین کے مطابق کم قیمت ہونے کی وجہ سے اسے بڑی تعداد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ڈیزائن اور ساخت
اس ڈرون کا ڈیزائن ڈیلٹا ونگ طرز کا ہے، جو دل کی شکل کے بازوؤں سے مشابہ ہوتا ہے۔
لمبائی تقریباً دس فٹ اور ونگ اسپین آٹھ فٹ ہے۔ اس کا اگلا حصہ گول ناک کون پر مشتمل ہے جبکہ پسٹن انجن استعمال کیا گیا ہے، جو اسے ایرانی شاہد ڈرون سے ظاہری طور پر ملتا جلتا بناتا ہے۔
وارہیڈ اور اہداف
لوکاس تقریباً اٹھارہ کلوگرام وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ نرم اہداف جیسے میزائل فیکٹریاں، لانچ سائٹس، سڑک نیٹ ورک یا بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے، تاہم مضبوط بنکر یا سخت دفاعی تنصیبات پر اس کی مؤثریت محدود ہو سکتی ہے۔
رینج اور آپریشنل صلاحیت
اس ڈرون میں طویل رینج اور خودکار پرواز کی صلاحیت موجود ہے۔ اسے گروپ یا سوارم حملوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں چالیس سے زائد ڈرون بیک وقت بھیجے جا سکتے ہیں۔

لانچ کے طریقوں میں کیٹاپلٹ، راکٹ معاون پرواز اور ٹرک، ٹریلر یا بحری جہاز سے لانچ شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس کا تجربہ ایک امریکی بحری جہاز سے بھی کیا گیا تھا۔
تعیناتی اور یونٹ
یہ ڈرون امریکی سینٹ کوم کے تحت قائم ٹاسک فورس اسکارپین اسٹرائیک کے زیر استعمال ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ایک خصوصی یونٹ ہے۔ اسے امریکہ کا پہلا باقاعدہ ون وے اٹیک ڈرون اسکواڈرن قرار دیا جا رہا ہے، جو کم لاگت مگر زیادہ تعداد میں حملوں کی حکمت عملی پر کام کرتا ہے۔
اسٹریٹجک مقصد
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پروگرام کا مقصد ایرانی ڈرون حکمت عملی کا جواب دینا ہے۔ ایران شاہد ڈرون مختلف خطوں میں استعمال کرتا رہا ہے، جبکہ امریکہ اب اسی طرز کی ٹیکنالوجی کم قیمت پر تیار کر کے ممکنہ طور پر ایران کے خلاف استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔

کم لاگت ڈرونز کے ذریعے مسلسل اور بڑے پیمانے پر حملے ممکن ہو سکتے ہیں، جبکہ روایتی میزائل نظام نسبتاً مہنگے اور محدود تعداد میں دستیاب ہوتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کم قیمت خودکش ڈرون ٹیکنالوجی خطے کی فوجی حکمت عملی اور دفاعی توازن پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔



