
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی فوج کا ایک طیارہ عراق کے مغربی علاقے میں حادثے کا شکار ہو گیا جس کے نتیجے میں چھ امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ امریکی حکام کے مطابق حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث کشیدگی انتہائی بڑھ چکی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ امریکی فوجی مشن پر تھا اور حادثہ عراق کے ایک مغربی علاقے میں پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا یا کسی اور وجہ سے۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایران نے حالیہ ہفتوں میں خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی مشیروں کے درمیان اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ سے کس طرح نکلنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اندر مختلف حلقے صدر کو مختلف تجاویز دے رہے ہیں کہ اس تنازع کو کس مرحلے پر ختم کیا جا سکتا ہے۔

اسی دوران ایران کے نئے سپریم لیڈر نے اعلان کیا ہے کہ ایران جنگ جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔ یہ آبنائے عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ادھر عالمی سطح پر توانائی کی صورتحال کے پیش نظر کئی ممالک نے متبادل ذرائع سے تیل کی فراہمی یقینی بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ بعض ممالک روسی خام تیل کی خریداری کے حوالے سے امریکی پابندیوں میں دی گئی عارضی نرمی سے فائدہ اٹھانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
اس تمام صورتحال کے درمیان کیوبا کے صدر نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات جاری ہیں، جسے خطے میں سفارتی سرگرمیوں کا ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔



