
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی کے دوران امریکہ کو ایک اور بڑا اسٹریٹجک دھچکا لگا ہے۔ سعودی عرب میں قائم اہم ترین امریکی فوجی اڈے پر گولہ باری کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کے اثاثوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

سعودی عرب کے ‘پرنس سلطان ایئر بیس’ (Prince Sultan Air Base) کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس گولہ باری کی زد میں آ کر امریکی فضائیہ (U.S. Air Force) کے کم از کم 5 ‘فیول ٹینکر طیارے’ (Fuel Tanker Aircraft) شدید متاثر ہوئے ہیں۔
امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان طیاروں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایئر بیس پر کھڑے تھے۔
ان طیاروں کی تباہی امریکہ کے لیے بڑا دھچکا کیوں ہے؟

عسکری ماہرین کے نزدیک یہ حملہ محض چند طیاروں کا نقصان نہیں، بلکہ امریکی فضائی طاقت کی ریڑھ کی ہڈی پر وار ہے:
- ہوا میں ایندھن بھرنے کی صلاحیت: یہ فیول ٹینکر طیارے (جیسے KC-135 Stratotanker) امریکی لڑاکا طیاروں اور بمبار جہازوں کو ہوا میں ہی ایندھن فراہم کرتے ہیں۔
- آپریشنل رینج میں کمی: ان طیاروں کے نقصان کا مطلب یہ ہے کہ اب امریکی لڑاکا طیارے زیادہ دیر تک فضا میں پرواز نہیں کر سکیں گے اور ان کی دور مار کرنے کی صلاحیت (Operational Range) بری طرح متاثر ہوگی۔
- حفاظتی نظام پر سوالات: پرنس سلطان ایئر بیس کو مشرقِ وسطیٰ میں انتہائی محفوظ تصور کیا جاتا ہے جہاں پیٹریاٹ (Patriot) جیسے مہنگے دفاعی نظام نصب ہیں۔ اس اڈے پر کامیاب حملہ امریکی ڈیفنس سسٹم کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
خطے کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟
یہ واقعہ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ جنگ اب صرف ایک مخصوص علاقے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ کار خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں تک پھیل چکا ہے۔ اس حملے نے خطے میں موجود دیگر امریکی اتحادیوں کی تشویش میں بھی اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی فوجی تنصیبات بھی اب مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔



