
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
بغداد: مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات اب عراق تک پھیل گئے ہیں، جہاں امریکی فوجی تنصیبات اور حشد الشعبی (پاپولر موبلائزیشن فورسز) کے ٹھکانوں پر حملوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب امریکی افواج کے ایک اہم لاجسٹک کیمپ کو دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ یہ کیمپ امریکی سپلائی کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، تاہم فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
حشد الشعبی پر فضائی حملے
دوسری جانب حشد الشعبی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے مختلف ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے۔ نینویٰ کے علاقے میں ایک حملے کے نتیجے میں ایک جنگجو ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے۔
صلاح الدین صوبے میں بھی ایک بمباری کے دوران ایک اور اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی، جبکہ بیجی کے علاقے میں واقع ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر حملے میں تین افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
امدادی کارروائیوں میں مشکلات
حشد الشعبی کے مطابق مسلسل فضائی نگرانی اور حملوں کے باعث امدادی ٹیموں کو زخمیوں کو نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور بعض مواقع پر امدادی اہلکار بھی نشانہ بنے۔
ملک بھر میں حملوں کا دائرہ وسیع
حملے صرف بغداد تک محدود نہیں رہے بلکہ جنوبی صوبہ بصرہ میں ام قصر نیول بیس کو بھی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ کرکوک ایئر بیس پر بھی ایک حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عراق کے مختلف حصوں میں سکیورٹی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور اہم فوجی تنصیبات مسلسل خطرے کی زد میں ہیں۔
غیر متوقع جنگ بندی کا اعلان
اس تمام صورتحال کے درمیان عراقی حزب اللہ بریگیڈز نے ایک غیر متوقع اعلان کرتے ہوئے بغداد میں امریکی سفارتخانے پر حملے عارضی طور پر روکنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم اس کے لیے چند شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔
تنظیم کے ترجمان کے مطابق اگر لبنان میں شہری علاقوں پر بمباری بند کی جائے اور عراق میں حملے نہ کیے جائیں تو یہ عارضی جنگ بندی جاری رہ سکتی ہے، بصورت دیگر کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔
خطے میں پراکسی جنگ کا نیا مرحلہ
تجزیہ کاروں کے مطابق عراق ایک بار پھر امریکہ اور ایران کے درمیان پراکسی جنگ کا میدان بنتا جا رہا ہے، جہاں مختلف مسلح گروہ اور ریاستی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عراق میں سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
مبصرین کے مطابق موجودہ حالات نہ صرف عراق بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، جہاں کسی بھی وقت صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔



