
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے اہلکاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 365 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 13 بتائی جا رہی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے مطابق یہ زخمی اہلکار گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں متاثر ہوئے، جن میں سب سے زیادہ تعداد زمینی افواج کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 247 فوجی زمینی فورسز سے، 63 بحریہ سے، 19 میرینز اور 36 فضائیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی بڑی تعداد کو دماغی چوٹوں (ٹرامیٹک برین انجری) کا سامنا ہوا ہے.
امریکی فوج کے اعلیٰ افسران کے مطابق ان زخمیوں کی بڑی وجہ ایرانی ڈرون حملے ہیں، جنہوں نے میدان جنگ میں امریکی اہلکاروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگ میں ڈرونز کا بڑھتا ہوا استعمال فوجی حکمت عملی کو تبدیل کر رہا ہے اور اس کے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

پینٹاگون نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بعض اہلکار فوری طور پر طبی امداد حاصل نہیں کر پاتے اور بعد میں ان کی حالت سامنے آتی ہے۔
دوسری جانب رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران ایران نے ایک امریکی جنگی طیارہ بھی مار گرایا، جس میں دو افراد سوار تھے۔ ذرائع کے مطابق ایک اہلکار کی تلاش تاحال جاری ہے، جس سے صورتحال کی سنگینی مزید واضح ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بڑھتی ہوئی ہلاکتیں اور زخمی امریکی فوج کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنگ طول پکڑتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو میدان جنگ میں امریکی حکمت عملی پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔



