
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
حالیہ پیش رفت میں امریکی فوجی ساز و سامان کو پہنچنے والے نقصانات نے واشنگٹن کے اس ابتدائی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے جس میں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ تہران کی عسکری صلاحیتیں مکمل طور پر ختم یا غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔ بدلتی ہوئی صورتحال نے نہ صرف امریکی پالیسی سازوں بلکہ عالمی مبصرین کو بھی ایران کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں پر ازسرِ نو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ جھڑپوں اور حملوں میں امریکی دفاعی نظام کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جس سے یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا کہ ایران اب بھی جدید میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون حملوں اور غیر روایتی جنگی حکمت عملیوں میں خاطر خواہ مہارت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ برسوں میں اپنی عسکری حکمت عملی کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ وہ براہ راست جنگ کے بجائے محدود مگر مؤثر حملوں کے ذریعے بڑے حریف کو بھی دباؤ میں لا سکتا ہے۔
واشنگٹن میں پالیسی حلقوں کے اندر اس پیش رفت پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ بعض امریکی حکام کا ماننا ہے کہ ابتدائی اندازے حقیقت سے زیادہ پُرامید تھے، اور ایران کی زمینی حقائق پر مبنی طاقت کو کم کر کے دیکھا گیا۔ اس کے برعکس، ایران نے اپنی دفاعی تیاریوں کو مسلسل بہتر بنایا اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھا۔

دوسری جانب، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر صورتحال اسی طرح آگے بڑھتی رہی تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر سلامتی کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ خاص طور پر توانائی کی ترسیل، بحری راستوں کی سیکیورٹی اور اتحادی ممالک کی حکمت عملیوں پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی فریق کی جانب سے غلط اندازہ یا حد سے زیادہ ردعمل ایک بڑے تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ اسی لیے سفارتی سطح پر رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جدید جنگ صرف روایتی طاقت کا کھیل نہیں رہی، بلکہ ٹیکنالوجی، حکمت عملی اور نفسیاتی دباؤ کا امتزاج بن چکی ہے—اور اس میدان میں ایران کی موجودگی کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔



