
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
تہران: ایران کے مرکزی صوبے اصفہان میں مبینہ امریکی-اسرائیلی کارروائی کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ آپریشن ناکامی سے دوچار ہوا اور اسے ایک بڑا اسٹریٹجک نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس کارروائی کے بعد امریکی صدر Donald Trump کے حالیہ سخت بیانات اسی ناکامی کا ردعمل ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی سے قبل کئی دنوں تک فضائی نگرانی اور خفیہ سرگرمیاں جاری رہیں، تاہم ابتدائی مرحلے میں ہی امریکی اور اتحادی فورسز کو نقصان اٹھانا پڑا، جس میں طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی تباہی کی اطلاعات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس آپریشن کی منصوبہ بندی وائٹ ہاؤس میں ایک خفیہ اجلاس کے دوران کی گئی، جہاں مبینہ طور پر اعلیٰ سطح پر فیصلے کیے گئے۔ ابتدائی طور پر اسے ایک ریسکیو مشن قرار دیا گیا، لیکن بعد ازاں دعویٰ سامنے آیا کہ اصل ہدف اصفہان میں واقع حساس تنصیبات تک رسائی حاصل کرنا تھا۔
اطلاعات کے مطابق امریکی کمانڈوز کو ایک متروک فضائی پٹی پر اتارا گیا، جو حساس مقامات کے قریب واقع تھی۔ تاہم ایرانی فورسز پہلے سے الرٹ تھیں اور انہوں نے صورتحال کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد کارروائی شروع کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب مزید طیارے اور ہیلی کاپٹر موقع پر پہنچے تو ایرانی فورسز نے انہیں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں صورتحال اچانک تبدیل ہو گئی اور امریکی اہلکار ایک مشکل پوزیشن میں آ گئے۔ اس دوران متعدد کمانڈوز اور فضائی اثاثے خطرے میں پڑ گئے۔
بعد ازاں مبینہ طور پر آپریشن کا مقصد تبدیل کر کے پھنسے ہوئے اہلکاروں کو نکالنے کی کوشش کی گئی، جس کے لیے فوری طور پر اضافی طیارے بھیجے گئے۔ ذرائع کے مطابق امریکی فورسز نے مشکل حالات میں اپنے اہلکاروں کو نکالنے کی کوشش کی اور کسی حد تک انخلا ممکن بنایا۔
دوسری جانب ایران کی مسلح افواج، بشمول Islamic Revolutionary Guard Corps، پولیس اور مقامی فورسز نے مشترکہ کارروائی میں حصہ لیا، جسے ایرانی میڈیا نے ایک کامیاب دفاعی حکمت عملی قرار دیا ہے۔
تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، اور امریکی حکام کی جانب سے اس آپریشن کی تفصیلات پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوؤں کو محتاط انداز میں دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ معلومات کا بڑا حصہ ایک فریق کے ذرائع سے سامنے آ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو اس کے خطے کی سکیورٹی صورتحال، امریکہ کی پالیسی اور ایران کے ساتھ کشیدگی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے، جو اس مبینہ آپریشن کی اصل نوعیت کو واضح کریں گی۔



