ایرانتازہ ترین

آبنائے ہرمز میں ایرانی فوجی سرگرمیاں تیز، “صیاد-3 جی” میزائل کا پہلا کامیاب تجربہ

تہران/آبنائے ہرمز — (تازہ حالات رپورٹ )

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں جاری فوجی مشقوں کے دوران پہلی بار “صیاد-3 جی”3 فضائی دفاعی میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تجربہ “اسمارٹ کنٹرول آف اسٹریٹ آف ہرمز” نامی تین روزہ مشقوں کے دوران کیا گیا، جو 16 فروری سے شروع ہو کر مکمل ہوئیں۔

ایرانی حکام نے ویڈیو جاری کی جس میں زمین سے فائر ہونے والے صیاد-3 نظام کے بحری ورژن کو “شہید صیاد شیرازی” نامی جہاز سے عمودی انداز میں داغتے دکھایا گیا۔ صیاد-3 جی کی رینج تقریباً 150 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جبکہ زمینی ورژن کی مار 120 کلومیٹر ہے۔ میزائل کی لمبائی تقریباً 6 میٹر اور وزن 900 کلوگرام بتایا جاتا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے “شہید سلیمانی کلاس” کے جنگی جہازوں کے لیے علاقائی سطح پر فضائی دفاعی چھتری قائم کی جا سکتی ہے، جس سے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں موجود بحری اثاثوں کا تحفظ مضبوط ہوگا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گذرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایسے میں ایران کی جانب سے جدید فضائی دفاعی نظام کی آزمائش خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔

یہ مشقیں ایسے وقت میں ہوئیں جب خطے میں امریکی بحری موجودگی میں اضافہ اور ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتی دباؤ جاری ہے۔ تہران بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے، جبکہ مغربی ممالک ایران کے میزائل پروگرام پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صیاد-3 جی کی بحری آزمائش ایران کی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد سمندری راستوں کے تحفظ اور ممکنہ خطرات کے مقابلے کے لیے تیاری کو ظاہر کرنا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button