امریکاتازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کا عالمی ویژن عملی شکل اختیار کر گیا — یورپ پر دباؤ میں اضافہ

یورپ میں سکیورٹی کے حوالے سے سوچ میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے عالمی طاقت کے توازن کو نئی شکل دے دی ہے۔ جرمنی سمیت یورپی ممالک اب دفاعی تیاریوں کو کھلے عام ترجیح دے رہے ہیں—ایک ایسا منظر جو چند برس پہلے تک ناقابلِ تصور تھا۔

جرمنی کے شہر میونخ کی مصروف شاہراہوں پر اس وقت جدید ڈرونز اور دفاعی ٹیکنالوجی کے اشتہارات نمایاں ہیں، جن پر لکھا ہے: “یورپ کی سکیورٹی زیرِ تعمیر ہے”۔ یہ علامتی جملہ دراصل یورپ کی بدلتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں دفاعی صنعت، مصنوعی ذہانت، ڈرونز اور ایرو اسپیس میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ باویریا کا خطہ اب جرمنی کا اہم دفاعی ٹیکنالوجی حب بن چکا ہے۔

یورپی عوام میں عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھ رہا ہے۔ حالیہ یوروبیرو میٹر سروے کے مطابق تقریباً 68 فیصد یورپی شہری سمجھتے ہیں کہ ان کا ملک کسی نہ کسی خطرے سے دوچار ہے۔ مشرق میں روس کی جارحانہ حکمتِ عملی، چین کی معاشی طاقت، اور مغرب میں امریکا کی غیر متوقع پالیسیوں نے یورپ کو نئی دفاعی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے شہری تحفظ نے سرد جنگ کے بعد پہلی بار خبردار کیا ہے کہ جنگ کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ ملک محفوظ ہے، تاہم شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہنگامی حالات کے لیے تین سے دس دن کا راشن گھر میں رکھیں۔

امریکا کی جانب سے یوکرین کو نئی براہِ راست فوجی امداد روکنے کے بعد جرمنی اب یوکرین کا سب سے بڑا انفرادی امدادی شراکت دار بن چکا ہے۔ ساتھ ہی رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ جرمن عوام چاہتے ہیں کہ حکومت داخلی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یورپ ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں اسے اپنی سکیورٹی کے لیے زیادہ خود انحصاری اختیار کرنا ہوگی۔ ٹرمپ کی خارجہ پالیسیوں نے یورپی رہنماؤں کو یہ احساس دلایا ہے کہ عالمی سیاست میں پرانی یقین دہانیاں اب کمزور ہو چکی ہیں—اور نیا عالمی نظام تیزی سے تشکیل پا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button