
سرنگوں غاروں بنکروں کو پھاڑنے والے یہ میزائل ایران کو کیسے ملے ؟
ایران کی مدد سے امریکا کی خفیہ ٹیکنالوجی چین روس کے ہاتھ لگ سکتی ہے ؟
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکا اور ایران کے درمیان اس وقت کشیدگی عروج پر ہے – امریکی فوجی تیاری کھلم کھلا ایران کے خلاف اعلان جنگ ہے – جہاں امریکا جنگی تیاریاں کررہا ہے وہیں ایران بھی فوجی طاقت تیار کررہا ہے – چین روس سے ایران کو میزائل ٹیکنالوجی جنگی جہاز ریڈار ایئر ڈیفنس سسٹم اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی ملی ہے – لیکن امریکا اور اسرائیل کو آج ایک اور نیا دھچکا اس وقت لگا جب ایرانی میڈیا اور ایرانی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ ہمارے پاس امریکا کےخطرناک میزائل موجود ہیں –

جون 2025 میں ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ہونے والے امریکی حملوں سے متعلق یہ ایک ایسا انکشاف ہے جس نے عالمی اسٹریٹجک حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ جدید ترین اور انتہائی خفیہ سمجھے جانے والے امریکی ہتھیار، جو برسوں سے ناقابلِ رسائی تصور کیے جاتے تھے، اب مبینہ طور پر ایران کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔

یہ محض ایک عسکری واقعہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، طاقت کے توازن اور مستقبل کی جنگوں سے جڑا ایک ایسا موڑ ہے جس کے اثرات برسوں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
حملہ جس نے سوالات کھڑے کر دیے
جون 2025 میں امریکا نے B-2 بمبار جہازں کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات کو GBU-57 سے نشانہ بنایا تھا- امریکی حملوں کا ہدف ایران کی وہ زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات تھیں جنہیں دنیا کی محفوظ ترین تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان حملوں میں امریکہ نےانتہائی وزنی بنکر بسٹر بم اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل استعمال کیے، جن کا مقصد زیرِ زمین مضبوط ڈھانچوں کو مکمل طور پر ناکارہ بنانا تھا۔لیکن اب دعویٰ یہ ہے کہ تمام ہتھیار اپنے مطلوبہ انداز میں کام نہیں کر سکے۔
🧠 GBU-57 کیوں اتنا اہم ہے؟
عسکری ماہرین کے مطابق GBU-57 دنیا کے سب سے طاقتور روایتی بموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ بم 30000 پاؤنڈ یعنی 13600 کلو گرام وزنی ہوتا ہے – یہ بم 60 سے 80 میٹر زمین غار یا کنکریٹ سے بنے بنکرز کے اندر جا کر پھٹنے کے لیے بنایا گیا ہے- صرف مخصوص اسٹیلتھ بمبار طیاروں جیسے B-2 کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے- یہ بم جدید ترین گائیڈنس اور دھماکہ خیز ٹیکنالوجی رکھتا ہے-عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واقعی اس نوعیت کے بم صحیح حالت میں ایران کے قبضے میں آ گئے ہیں تو یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔

🔍 ریورس انجینئرنگ: اصل خطرہ کہاں ہے؟
عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل تشویش بم کا نہ پھٹنا نہیں بلکہ اس کا محفوظ حالت میں ہاتھ لگ جانا ہے-ریورس انجینئرنگ کے ذریعےبم کے اندر استعمال ہونے والی دھاتیں رہنمائی (guidance) سسٹمز نفوذ (penetration) ٹیکنالوجی اور دھماکے کے مکینزم سمجھے اور نقل کیے جا سکتے ہیں۔اگر کوئی ریاست اس سطح کی ٹیکنالوجی کو سمجھنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ اپنے ہتھیاروں کی نسل بدل سکتی ہے۔
طاقت کا توازن بدل رہا ہے
مبصرین کے مطابق اگر واقعی ایران کو یہ میزائل مل گئے ہیں تو یہ خطے میں طاقت کا توازن بدل دے گا – کیوں کہ یہ میزائل تو اسرائیل کے پاس بھی نہیں ہیں –
سی این این کے ایک سابق دفاعی تجزیہ کار کے مطابق:
“اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ 21ویں صدی کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ناکامیوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔”
کئی ماہرین کے مطابق ایران کی مدد سے یہ حساس ٹیکنالوجی روس چین کے ہاتھ بھی لگ سکتی ہے – امریکی ٹیکنالوجی امریکی دشمنوں کے ہاتھ لگنا واقعی امریکا کے لیے تباہی کا سبب ہے –

ابھی کیا نامعلوم ہے؟
کتنے بم واقعی صحیح حالت میں ملے؟ کیا ان کے حساس حصے محفوظ ہیں؟ ایران اس ٹیکنالوجی کو کس حد تک سمجھ سکا ہے؟ اور کیا امریکہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نئی حکمتِ عملی بنا رہا ہے؟یہ سب سوالات فی الحال جواب کے منتظر ہیں۔لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ امریکا کا جون کا حملہ ایران کے نقصانات کے ساتھ ساتھ امریکا کے لیے بھی شدید دھچکے کا باعث بنا ہے –



