اسرائیلتازہ ترین

امریکا کا بڑا قدم، 3 ہزار ایلیٹ فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کی تیاری

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکا نے اپنی فوجی تیاریوں میں نمایاں اضافہ شروع کر دیا ہے، جہاں پینٹاگون مبینہ طور پر امریکی فوج کی ایلیٹ 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے تقریباً 3 ہزار اہلکاروں کو خطے میں تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بریگیڈ کومبیٹ ٹیم، جو نارتھ کیرولائنا میں قائم اس تیز رفتار ردعمل دینے والی یونٹ کا حصہ ہے، ایران سے متعلق بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ بھیجی جا سکتی ہے۔ تاہم پینٹاگون کی جانب سے تاحال اس تعیناتی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

82ویں ایئر بورن ڈویژن کو امریکی فوج کی انتہائی تربیت یافتہ اور فوری کارروائی کرنے والی فورس سمجھا جاتا ہے، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں چند گھنٹوں کے اندر دنیا کے کسی بھی حصے میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس یونٹ کی تعیناتی کا مقصد نہ صرف امریکی مفادات کا تحفظ ہو سکتا ہے بلکہ ایران کو واضح پیغام دینا بھی ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا پہلے ہی خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں تقریباً 2,500 میرینز کو تین جنگی جہازوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ روانہ کیا گیا، جن میں ایمفیبیئس اسالٹ شپ "یو ایس ایس باکسر” بھی شامل ہے۔ اس اقدام کو خلیج میں واقع اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے تحفظ اور بحری راستوں کی بحالی کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ طور پر تعینات کیے جانے والے یہ فوجی مختلف ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں، جن میں امریکی اڈوں اور عملے کا تحفظ، اتحادی ممالک کی مدد، اور خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے دفاعی موجودگی شامل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے، تاہم فوری طور پر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایسے حساس فوجی فیصلوں کو میڈیا میں پیشگی ظاہر نہیں کیا جائے گا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے یہ اقدامات ایک طرف ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہو سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب خطے میں اپنے اتحادیوں کو یقین دہانی کرانے کی کوشش بھی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو تنازع مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button