
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے دوران امریکی فوج نے انتہائی تیزی سے اپنے جدید ہتھیار استعمال کیے ہیں جس کے باعث واشنگٹن میں اسلحہ کے ذخائر اور جنگی تیاریوں کے بارے میں نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی اور مغربی ذرائع کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی ایسے ہتھیار استعمال ہو چکے ہیں جو عام حالات میں کئی سال تک استعمال کیے جاتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی اور بحری حملوں میں بڑی تعداد میں مہنگے اور جدید میزائل استعمال کیے، جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹاماہاک کروز میزائل بھی شامل ہیں۔ صرف جنگ کے پہلے سو گھنٹوں کے دوران کم از کم 160 سے زائد ٹاماہاک میزائل داغے گئے، جس نے امریکی اسلحہ ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران بڑی تعداد میں مہنگے پریسیژن ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ ایران کی جانب سے نسبتاً سستے ڈرون اور میزائل حملے کیے جا رہے ہیں۔ اس فرق کی وجہ سے جنگی اخراجات اور ہتھیاروں کی کھپت میں نمایاں عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔
اخراجات اور اسلحہ کی رفتار
امریکی محکمہ دفاع کے ابتدائی اندازوں کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں اربوں ڈالر کے ہتھیار استعمال کیے گئے۔ بعض رپورٹس کے مطابق صرف دو دنوں میں تقریباً 5.6 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ استعمال ہوا، جس میں ہزاروں بم اور میزائل شامل تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید پریسیژن میزائلوں کی پیداوار نسبتاً سست ہوتی ہے، اس لیے ان کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پینٹاگون اب جنگی اخراجات اور اسلحہ کی پیداوار بڑھانے کے لیے اضافی دفاعی بجٹ مانگنے پر غور کر رہا ہے۔
کانگریس میں تشویش
امریکی کانگریس کے بعض اراکین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو امریکا کو اسلحہ کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس جنگ کے باعث امریکا کی دوسری عالمی محاذوں پر فوجی تیاری بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
عالمی اثرات
دوسری جانب جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خلیج میں کشیدگی اور توانائی کی سپلائی کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں جبکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو امریکا کو نہ صرف مزید اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں بلکہ جدید ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
اگر چاہیں تو میں اس خبر کے لیے 6–8 SEO اور کلک ایبل اردو ٹائٹلز بھی بنا سکتا ہوں جو ویب سائٹ کے لیے زیادہ وائرل ہوں۔



