
(تازہ حالات رپورٹ )
تہران: ایرانی وزیرِ تیل محسن پاک نژاد نے کہا ہے کہ جاری جوہری مذاکرات کے تناظر میں ایران اور امریکا کے درمیان تیل و گیس کے شعبے میں تعاون کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، “سب کچھ ممکن ہے”، تاہم اس مرحلے پر کسی حتمی پیش رفت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق وزیرِ تیل نے وضاحت کی کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ توانائی کے شعبے میں عملی تعاون کب اور کس حد تک شروع ہو سکے گا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ بات چیت کے نتائج پر بہت کچھ منحصر ہے۔

دوسری جانب ایران کے نائب وزیرِ خارجہ برائے اقتصادی سفارت کاری حمید قنبری نے حالیہ خطاب میں کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے متن میں تیل و گیس کے مشترکہ مفادات، سرحدی گیس و آئل فیلڈز، معدنیات میں سرمایہ کاری اور حتیٰ کہ طیاروں کی خریداری جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔ ان کے مطابق اقتصادی تعاون کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کسی سطح پر توانائی تعاون کی راہ ہموار ہوتی ہے تو اس کے عالمی تیل منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی اور پابندیوں کے باعث سپلائی چین دباؤ کا شکار ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں، تاہم موجودہ مذاکرات کو ممکنہ برف پگھلنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سفارتی عمل توانائی تعاون تک پہنچ پاتا ہے یا نہیں۔



