امریکاایرانتازہ تریندفاع

لاپتہ امریکی پائلٹ کی تلاش تیز، ریسکیو طیارے مشرقِ وسطیٰ روانہ، آپریشن میں توسیع کے آثار

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی فوج نے لاپتہ ایف-15 ای لڑاکا طیارے کے عملے کے رکن کی تلاش کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں، جس کے تحت خصوصی ریسکیو طیارے مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیے گئے ہیں۔ اس پیش رفت کو تلاش کے جاری اور ممکنہ طور پر وسیع ہوتے آپریشن کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دو امریکی HC-130J کمبیٹ کنگ II ریسکیو ٹینکر طیارے جرمنی کے اسٹٹگارٹ آرمی ایئر فیلڈ سے روانہ ہوئے اور اب مشرقِ وسطیٰ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ طیارے خاص طور پر جنگی حالات میں سرچ اینڈ ریسکیو مشنز کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جو اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ امریکی فوج اس آپریشن کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق HC-130J طیاروں کا بنیادی کام ریسکیو ہیلی کاپٹرز، خصوصاً HH-60 پیو ہاک، کو فضا میں ایندھن فراہم کرنا ہوتا ہے، جس سے وہ زیادہ دیر تک اور زیادہ فاصلے تک تلاش کی کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس طرح کے وسائل کی تعیناتی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تلاش کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں گرنے والے امریکی طیارے کے پائلٹ کی تلاش کئی دنوں سے جاری ہے اور اب تک اس کا سراغ نہیں مل سکا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں وقت انتہائی اہم ہوتا ہے، اسی لیے جدید وسائل اور خصوصی یونٹس کو فوری طور پر متحرک کیا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس آپریشن کی توسیع نہ صرف ایک فوجی ضرورت ہے بلکہ یہ امریکی فوج کی اس پالیسی کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں کو ہر ممکن صورت میں واپس لانے کے لیے مکمل کوشش کرتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اگر آپریشن مزید آگے بڑھا تو کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایران میں جاری تنازع کے اثرات اب براہِ راست فوجی ریسکیو مشنز تک پہنچ چکے ہیں، جہاں ہر نئی پیش رفت خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button