
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خلیج میں ایران کے 16 بارودی سرنگ بچھانے والے بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ خطے سے اپنے مخالف ممالک کو ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں ہونے دے گا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا کر عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی اہم سمندری راستے سے گزرتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی گئی تو امریکہ ایسا ردعمل دے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہوگا۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کی شدت مزید بڑھائی جائے گی۔

ادھر ایران کی قیادت نے جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ حملہ آوروں کو ایسا جواب دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔
جنگ کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ لبنان، اسرائیل، خلیجی ممالک اور عراق میں بھی حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے متعدد میزائل اور ڈرون تباہ کیے جو اہم فوجی اور تیل تنصیبات کی طرف بڑھ رہے تھے۔

ادھر عالمی توانائی منڈی میں بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر اس کے سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔ سعودی تیل کمپنی آرامکو نے بھی بتایا ہے کہ بعض آئل ٹینکرز کو متبادل راستوں پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ سپلائی جاری رکھی جا سکے۔
اقوام متحدہ کے مطابق جنگ کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو خلیجی خطے سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑی تو یہ تنازعہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔



