
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
تائیوان نے کہا ہے کہ امریکا اس کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے غیر معمولی سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر کو ختم کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین کی جانب سے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
تائیوان کے وزیر دفاع ویلنگٹن کو کے مطابق امریکا نے نہ صرف اس معاملے کو ترجیح دی ہے بلکہ تاخیر کا شکار دفاعی منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کے لیے خصوصی ٹیم بھی قائم کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو تائیوان کی دفاعی ضروریات کا مکمل ادراک ہے اور وہ اسے جلد از جلد خود دفاع کے قابل بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
تائیوان کو طویل عرصے سے امریکی ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر پر تشویش رہی ہے، خاص طور پر 2019 میں دیے گئے آرڈر کے تحت جدید ایف-16 وی لڑاکا طیاروں کی فراہمی میں۔ یہ طیارے جدید ریڈار، اسلحہ اور جدید ایویونکس سسٹمز سے لیس ہیں، جو چینی فضائیہ کے جدید ترین اسٹیلتھ جنگی طیاروں، جیسے جے-20، کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حکام کے مطابق ایف-16 وی طیاروں کی پیداوار اب مکمل رفتار سے جاری ہے اور ان کی فراہمی کا آغاز رواں سال متوقع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر دفاعی ساز و سامان کی کچھ کھیپیں پہلے ہی تائیوان کو موصول ہو چکی ہیں، جبکہ باقی کی ترسیل کو تیز کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
امریکی دفاعی حکام بھی واضح کر چکے ہیں کہ تائیوان کے ساتھ سیکیورٹی تعاون ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ امریکا قانوناً تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے وسائل فراہم کرنے کا پابند ہے، تاہم یہی معاملہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان مسلسل کشیدگی کا باعث بھی بنا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق تائیوان کے گرد بڑھتی ہوئی چینی فوجی سرگرمیاں، بشمول جنگی طیاروں اور بحری مشقیں، اس بات کا اشارہ ہیں کہ خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ایسے میں امریکا کی جانب سے ہتھیاروں کی فراہمی میں تیزی نہ صرف تائیوان کے دفاع کو مضبوط بنائے گی بلکہ چین کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہو گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اور تائیوان اس تعاون کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہیں، تاہم چین اسے اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام سمجھتا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔



