
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی محکمہ دفاع Pentagon نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنی میزائل دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق امریکا جنوبی کوریا میں تعینات جدید میزائل دفاعی نظام THAAD کے بعض حصے مشرقِ وسطیٰ منتقل کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں ممکنہ میزائل حملوں کے خطرات سے نمٹنا اور امریکی و اتحادی تنصیبات کو بہتر دفاع فراہم کرنا ہے۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث واشنگٹن خطے میں اپنی دفاعی تیاری کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
اسی دوران امریکی فوج نے Patriot Missile System کے میزائل ذخائر بھی مختلف علاقوں میں استعمال کے لیے فعال کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ میزائل سسٹم خاص طور پر بیلسٹک میزائلوں اور فضائی خطرات کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ہتھیاروں کی کمی کے باعث نہیں بلکہ احتیاطی حکمتِ عملی کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق خدشہ ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو Iran اپنی میزائل کارروائیوں میں شدت لا سکتا ہے، جس کے پیش نظر دفاعی نظام کو مضبوط بنانا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق THAAD نظام دنیا کے جدید ترین میزائل دفاعی نظاموں میں شمار ہوتا ہے جو دشمن کے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح پیٹریاٹ میزائل سسٹم بھی کئی دہائیوں سے امریکی اور اتحادی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی دفاعی نظام کی موجودگی مزید بڑھتی ہے تو اس سے خطے میں طاقت کے توازن اور فوجی حکمتِ عملی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن ممکنہ طور پر ایک طویل اور پیچیدہ کشیدگی کے لیے تیاری کر رہا ہے۔



