امریکاتازہ ترین

امریکی B-1B بمبار طیارے بھی ایران کے خلاف آپریشن میں شامل، “ایپک فیوری” میں حملوں کا دائرہ وسیع

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکہ کے اسٹریٹجک بمبار طیارے B-1B لینسر بھی ایران کے خلاف جاری فوجی مہم “آپریشن ایپک فیوری” میں شامل ہو گئے ہیں۔ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی ڈکوٹا کے ایلس ورتھ ایئر فورس بیس سے براہِ راست پرواز کرتے ہوئے ان طیاروں نے ایرانی بیلسٹک میزائل مراکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے پینٹاگون میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کارروائی کے ابتدائی مرحلے میں 100 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا، جن میں لڑاکا طیارے، فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے، الیکٹرانک وارفیئر پلیٹ فارمز اور اسٹریٹجک بمبار شامل تھے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام کے مطابق B-1B طیارے بحرِ اوقیانوس اور بحیرہ روم سے ہوتے ہوئے ہدفی علاقوں تک پہنچے اور فضائی ری فیولنگ کے ذریعے طویل فاصلے کی کارروائی انجام دی۔ یہ طیارے اس سے قبل B-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بمباروں کی کارروائی کے اگلے دن تعینات کیے گئے، جنہوں نے زیرِ زمین تنصیبات پر گائیڈڈ بم گرائے تھے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ B-1B مکمل طور پر اسٹیلتھ طیارہ نہیں، تاہم اس کی رفتار، طویل رینج اور جدید اسٹینڈ آف ہتھیار اسے فضائی دفاعی خطرات سے نسبتاً محفوظ رکھتے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طیاروں نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ہتھیار استعمال کیے تاکہ ایرانی فضائی دفاع کے قریب جانے کی ضرورت نہ پڑے۔

جنرل کین کے مطابق کارروائی کا آغاز سائبر اور اسپیس کمانڈ کی غیر روایتی (نان کینیٹک) کارروائیوں سے ہوا، جنہوں نے ایران کے مواصلاتی اور ریڈار نیٹ ورک کو متاثر کیا۔ اس کے بعد بحریہ کے ٹوماہاک میزائل اور دیگر فضائی حملے کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں مقامی فضائی برتری حاصل کر لی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے تحت تعینات لڑاکا طیارے بھی ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں اور میزائل و ڈرون حملوں کے دفاع میں سرگرم ہیں۔ اس دوران تین ایف-15 ای طیارے دوستانہ فائر کے باعث تباہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر B-52 اسٹریٹوفورٹریس بمبار بھی آئندہ مرحلے میں شامل کیے گئے تو کارروائی مزید وسعت اختیار کر سکتی ہے۔ موجودہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی کمانڈ، میزائل اور بحری صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے طویل المدتی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button