
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اپنے اتحادی ممالک کو جدید دفاعی نظام فراہم کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو مبینہ طور پر کانگریس کے روایتی عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے 16.5 ارب ڈالر تک کے ہتھیاروں کی فروخت کو تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پیکج میں جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز، ریڈار ٹیکنالوجی اور میزائل شامل ہیں، جن کا مقصد خطے میں امریکی اتحادیوں کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو حالیہ مہینوں میں ایران کی جانب سے ممکنہ یا براہِ راست ردعمل کا سامنا کر رہے ہیں، اس اقدام کے مرکزی ہدف ہیں۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں تیزی سے بدلتی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا جا رہا ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے ایک وسیع تر جغرافیائی تنازع کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جدید میزائل دفاعی نظام کی فراہمی سے نہ صرف اتحادی ممالک کے حساس انفراسٹرکچر کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ فضائی خطرات کا بروقت مقابلہ بھی کیا جا سکے گا۔
دوسری جانب ناقدین اس اقدام کو امریکی قانون سازی کے عمل کو نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر اس سطح کے دفاعی معاہدے طے کرنا جمہوری اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے خطے میں اسلحے کی دوڑ مزید تیز ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل پہلے ہی ایران کے خلاف مختلف نوعیت کی عسکری کارروائیوں میں مصروف ہیں، جبکہ ایران بھی اپنے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلحے کی یہ نئی ڈیل مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے اس فیصلے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔



