
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران امریکی فوجیوں میں بے چینی اور اختلافِ رائے سامنے آنے لگا ہے، جہاں متعدد اہلکار اس جنگ میں شرکت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کی بڑھتی تعداد اس جنگ کے مقصد اور خطرات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق کئی فوجی اہلکاروں نے کہا ہے کہ وہ “اسرائیل کے لیے مرنے” کے لیے تیار نہیں اور خود کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا محسوس کر رہے ہیں۔ ایک سابق فوجی اور ریزروسٹ افسر، جو نوجوان اہلکاروں کی رہنمائی کرتی ہیں، کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایسے کیسز میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جہاں فوجی ضمیر کی بنیاد پر سروس چھوڑنے (Conscientious Objection) کے بارے میں معلومات طلب کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فعال ڈیوٹی، ریزرو فورسز اور فوجی تنظیموں سے منسلک افراد کے انٹرویوز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فوجیوں کو شدید ذہنی دباؤ، خوف اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ کئی اہلکاروں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف مناسب تحفظ حاصل نہیں۔
ایک فوجی اہلکار کے مطابق “یہ صرف چھوٹے حملوں کا خطرہ نہیں، بلکہ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے عمارتوں کو تباہ ہوتے دیکھا ہے، جس نے صورتحال کو مزید خوفناک بنا دیا ہے۔”

اب تک اس جنگ میں کم از کم 13 امریکی فوجی ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جس نے فوج کے اندر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اہم تیل مرکز خارگ جزیرے پر ممکنہ زمینی کارروائی پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جسے ماہرین ایک خطرناک قدم قرار دے رہے ہیں۔ ایک فوجی اہلکار نے خبردار کیا کہ “ہم اس طرح کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہیں اور یہ ایک بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔”
رپورٹس کے مطابق مزید امریکی فوجی دستے بھی مشرقِ وسطیٰ روانہ کیے جا رہے ہیں، جن میں ہزاروں میرینز شامل ہیں، جبکہ جنگی تیاریوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب کچھ فوجی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے گروپس ایسے اہلکاروں کی مدد کر رہے ہیں جو اس جنگ میں حصہ لینے سے انکار کرنا چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان بڑھتا رہا تو اس کے اثرات نہ صرف فوجی مورال بلکہ امریکی پالیسی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی طویل جنگ میں فوجیوں کا اعتماد اور حوصلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اور اگر یہی کمزور پڑ جائے تو اس کے نتائج میدانِ جنگ سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔



