
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے بڑی مقدار میں یورینیم حاصل کرنے کے لیے ایک ممکنہ فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ منصوبہ نہایت حساس اور خطرناک نوعیت کا ہو سکتا ہے، جس میں امریکی افواج کو ایران کے اندر داخل ہو کر کئی دنوں تک کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد ایران کے پاس موجود تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم کو اپنے قبضے میں لینا ہے، تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ امریکی قیادت طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تاہم اس ممکنہ کارروائی کے حوالے سے سب سے بڑی تشویش امریکی فوجیوں کی سلامتی ہے۔ حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس بات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر ایسا کوئی آپریشن کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں امریکی افواج کو کس حد تک خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور علاقائی اتحادی بھی متحرک ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اندر کسی بھی قسم کی زمینی کارروائی نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی طور پر بھی بڑے نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ اس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور ایک وسیع تر تنازع کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

ادھر واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں، جن میں بعض اوقات براہ راست اور بعض اوقات بالواسطہ بات چیت شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سفارتی راستہ کامیاب ہو جاتا ہے تو ممکنہ فوجی کارروائی کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں تمام آپشنز زیر غور ہیں۔
عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ اس قسم کے کسی بھی اقدام کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی برادری صورتحال کو انتہائی قریب سے دیکھ رہی ہے۔



