امریکاتازہ ترین

امریکہ نے ایران پر حملوں میں جدید ٹیکنالوجی بی-2 بمبار طیاروں اور خودکش ڈرونز کا استعمال کیا

واشنگٹن/تہران (رائٹرز) (تازہ حالات خصوصی رپورٹ )— امریکہ نے ایران کے خلاف ہفتے کے روز ہونے والی کارروائی میں جدید ہتھیاروں اور نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، جن میں ٹوماہاک کروز میزائل، اسٹیلتھ لڑاکا طیارے اور کم قیمت خودکش ڈرون شامل تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق یہ حملے “آپریشن ایپک فیوری” کے تحت کیے گئے۔

امریکی فوج کی جانب سے جاری تصاویر میں ٹوماہاک میزائلوں کی لانچنگ، ایف-18 اور ایف-35 اسٹیلتھ طیاروں کی پرواز اور ایران میں حملوں کی تفصیلات دکھائی گئیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق پہلی بار میدانِ جنگ میں ایسے یکطرفہ حملہ آور ڈرون استعمال کیے گئے جو ایرانی ڈیزائن سے متاثر بتائے جاتے ہیں، مگر نسبتاً کم لاگت میں تیار کیے گئے۔

مصنوعی ذہانت کا استعمال

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے اس کارروائی کے دوران امریکی کمپنی Anthropic کی مصنوعی ذہانت کی خدمات بھی استعمال کیں، جن میں اس کا معروف اے آئی ٹول “Claude” شامل ہے۔ ایک باخبر ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی حملوں کی منصوبہ بندی یا معلوماتی تجزیے میں مدد کے لیے استعمال کی گئی، تاہم یہ واضح نہیں کہ اے آئی کو کس مخصوص مرحلے پر بروئے کار لایا گیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس آپریشن سے ایک روز قبل امریکی حکومت نے Anthropic کو “سپلائی چین رسک” قرار دیا تھا، یعنی قومی سلامتی کے تناظر میں اس کے کردار پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو سرکاری اداروں کو اس کمپنی کے ساتھ کام روکنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ اس کے باوجود جنگی کارروائی میں اس کی ٹیکنالوجی کے استعمال کی خبر نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پینٹاگون اور Anthropic نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا۔

بی-2 بمبار اور فضائی برتری

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بی-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار طیارے بھی مشن میں شامل رہے، جو طویل فاصلے تک بغیر ریڈار پر آئے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ ایف-35 جیسے جدید لڑاکا طیاروں کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو غیر مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی۔

ٹیکنالوجی اور جنگ کا نیا مرحلہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور خودکار ڈرونز کا استعمال جدید جنگی حکمت عملی کا نیا باب ہے، جہاں انسانی فیصلہ سازی کے ساتھ ساتھ مشینی تجزیہ بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ امریکہ پہلے بھی خفیہ معلومات کے تجزیے میں اے آئی کا استعمال کرتا رہا ہے، تاہم کسی بڑے جنگی آپریشن میں اس کے استعمال کی یہ نمایاں مثال سمجھی جا رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ پیش رفت نہ صرف عسکری بلکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ایک اہم موڑ قرار دی جا رہی ہے۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button