
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرق وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر ایک اہم ترین سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا اگر باقاعدہ جنگ چھڑتی ہے، تو چین ایران کی مدد کے لیے اپنی فوجیں بھیجے گا؟ بین الاقوامی امور کے ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کا جواب روایتی فوجی اتحاد سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ 21ویں صدی کی اس عظیم طاقتوں کی کشمکش میں بیجنگ کی حکمت عملی بہت گہری اور پیچیدہ ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور تجزیوں پر مبنی اس رپورٹ میں جانیے کہ چین کس طرح خاموشی سے ایران کی بقا اور سلامتی کو یقینی بنا رہا ہے۔
فوجی مداخلت کے بجائے سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھال چین کی جانب سے ایران کی حمایت حقیقت پر مبنی اور کثیرالجہتی ہے، لیکن یہ براہ راست فوجی تصادم کے بجائے ایک مختلف اسٹریٹجک ڈگر پر چل رہی ہے۔ بیجنگ اپنے فوجی یا جنگی بحری جہاز بھیجنے کا امکان تو نہیں رکھتا، تاہم وہ ایران کی بقا یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے ’ویٹو‘ پاور اور سفارتی اثر و رسوخ کا بھرپور استعمال کر رہا ہے۔ چینی حکام بارہا واشنگٹن پر واضح کر چکے ہیں کہ طاقت کا استعمال مسائل کو سلجھانے کے بجائے خطے کو ایک غیر متوقع تباہی کی طرف دھکیل دے گا۔

عالمی اتحاد اور مشترکہ بحری مشقیں حالیہ برسوں میں چین، روس اور ایران کے تعلقات میں نمایاں قربت آئی ہے۔ 2021 میں ایران کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور پھر برکس (BRICS) کا مکمل رکن بنا کر چین نے تہران کو عالمی تنہائی سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں چین، روس اور ایران کی مشترکہ بحری مشقیں مغربی تسلط کے خلاف ایک واضح اور عملی پیغام ہیں۔
دفاعی تعاون اور جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی براہ راست جنگ کا حصہ نہ بننے کے باوجود، بیجنگ اور تہران کے درمیان دفاعی تعاون تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، امریکی پابندیوں کو بائی پاس کرتے ہوئے ’تیل کے بدلے ہتھیاروں‘ کے معاہدے کے تحت ایران کو چینی ساختہ جدید فضائی دفاعی نظام (Air Defence Systems) موصول ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کو چین کے جدید ترین جے-20 (J-20) اسٹیلتھ فائٹر جیٹس، جے-10 سی (J-10C) طیارے اور ایچ کیو-9 (HQ-9) میزائل سسٹم ملنے کی اطلاعات بھی زیرِ گردش ہیں، اگرچہ اس کی تاحال باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی۔

ایران کے لیے معاشی لائف لائن (آکسیجن) امریکی پابندیوں کی موجودگی میں چین اس وقت ایران کی معیشت کے لیے لائف لائن بنا ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ایران کے تیل کی کل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ چینی خریداروں کے پاس جا رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت کو صفر پر لانے کی دھمکیوں کے باوجود، چین اپنے معاشی مفادات اور تجارتی شراکت داری پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔
چین کی حتمی حکمت عملی کیا ہے؟ (یوکرین ماڈل) دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ بیجنگ کی سب سے بڑی ترجیح اپنی قومی یکجہتی (خاص طور پر تائیوان کا انضمام) ہے اور وہ امریکا کے ساتھ قبل از وقت کسی براہ راست اور بڑی محاذ آرائی سے گریزاں ہے۔ ایران کے معاملے میں چین ممکنہ طور پر ’یوکرین ماڈل‘ اپنائے گا۔ جس طرح روس کے خلاف مغرب براہ راست جنگ کا حصہ نہیں بنا، اسی طرح چین بھی جنگ میں باقاعدہ فوجی شمولیت کے بغیر سیاسی، سفارتی اور معاشی محاذ پر ایران کی بھرپور پشت پناہی جاری رکھے گا۔
خلاصہ: اگر ’مدد‘ کا مطلب فوجیں اور جنگی جہاز بھیجنا ہے، تو جواب ناں میں ہے۔ لیکن اگر اس کا مطلب ایران کو معاشی اور سفارتی طور پر اتنا مضبوط کرنا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے اور اپنے وجود کو برقرار رکھ سکے، تو چین خاموشی اور مستقل مزاجی سے بالکل یہی کر رہا ہے۔



