اسرائیلامریکاتازہ ترین

ایران جنگ: امریکا اور اسرائیل کے فوجی اتحاد نے نئی بحث چھیڑ دی:

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے دوران United States اور Israel کے درمیان فوجی تعاون نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ موجودہ اور سابق امریکی و اسرائیلی حکام کے مطابق دونوں ممالک کی افواج کا اس انداز میں مشترکہ فوجی کارروائی کرنا جدید تاریخ میں کم ہی دیکھا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس جنگ میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ معلومات، ٹیکنالوجی اور عسکری حکمتِ عملی کا قریبی تبادلہ کیا ہے۔ امریکی فوج نے خطے میں اپنے فضائی اور بحری وسائل فراہم کیے جبکہ اسرائیلی افواج نے انٹیلی جنس معلومات اور علاقائی فوجی صلاحیتوں سے اہم کردار ادا کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے، تاہم حالیہ جنگ میں دونوں ممالک کا اس سطح پر براہِ راست مشترکہ فوجی کردار ایک نئی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس تعاون میں جدید میزائل دفاعی نظام، فضائی حملوں کی منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس شیئرنگ شامل ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اس اتحاد کے پیچھے مشترکہ سکیورٹی خدشات اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی بھی شامل ہے۔ دونوں ممالک طویل عرصے سے ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو اپنے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔

تاہم بعض ماہرین یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ فوجی اتحاد طویل مدت تک برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔ ان کے مطابق جنگ کے بڑھتے اخراجات، عالمی سیاسی دباؤ اور عوامی رائے جیسے عوامل مستقبل میں اس تعاون کو متاثر کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے امریکا اور اسرائیل کے درمیان سکیورٹی شراکت داری کو مزید مضبوط کیا ہے اور ممکن ہے کہ یہ اتحاد آنے والے برسوں میں خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال پر گہرا اثر ڈالے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button