امریکاتازہ ترین

ایران نے امریکا کا مہنگا جاسوس ڈرون مار گرایا ؟

روس چین نے ڈرون گرانے والی خفیہ ٹیکنالوجی ایران کو دیدی؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ) امریکا ایران کے درمیان اس وقت جنگ کی گھنٹیاں بج رہی ہیں – امریکا 3 جنوری 2026 سے ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر جنگی لاؤ لشکر مشرق وسطی بھیج رہا ہے – بعض رپورٹس کے مطابق امریکا نے 300 سے زائد اسلحے کے جہاز ایران کے خلاف مشرق وسطی بھیجے ہیں- امریکا نے مختلف نوعیت کے جنگی لڑاکا جہازوں کی فوج بھی مشرق وسطی اڈوں پر تعنیات کردی ہے جس میں F-35 ایف 16 ،ایف 22 ، ایف 15 ایگل سمیت درجنوں ایئر ریفولنگ ٹینکر شامل ہیں-

دوسری طرف امریکا نے دو بحری بیڑے بھی مشرق وسطی میں تعینات کردیے ہیں جن کے ساتھ 12 ڈسٹرائر بحری جنگی جہاز اور 15000 سے زائد فوجی عملہ ہے – اس کے علاوہ امریکا مسلسل ایران کے قریب مختلف ڈرونز سے سرویلنس بھی جاری رکھے ہوئے ہے – امریکی ڈرون خلیج فارس خلیج عمان میں روزانہ کی بنیاد پر پروازیں کررہے ہیں- امریکا کے اواکس E-3 جہاز بھی مشرق وسطی میں تعینات ہیں-

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکا کا ایک مہنگا ڈرون ایران کے قریب سرویلنس جاسوسی کرتے ہوئے لاپتہ ہوا ہے – امریکی بحریہ کا (MQ-4C Triton) ڈرون ایران کے قریب 33000 فٹ بلندی پر اڑ رہا تھا جب اس نے ہنگامی سگنل بھیجا پھر اچانک اس کا رابطہ منقطع ہوگیا اور ریڈار سے غائب ہوگیا – یہ ڈرون مبینہ طور پر ابوظہبی سے اڑا اور آبنائے ہرمز کے قریب لاپتہ ہوگیا –

اس سے قبل 2019 میں بھی ایران نے امریکی ڈرون(RQ-4 Global Hawk) آبنائے ہرمز میں جاسوسی کے دوران مار گرایا تھا-

سوشل میڈیا پر مختلف ماہرین نے اسے الیکٹرانگ وارفیئرEV کے ذریعے گرانے کا دعوی کیا ہے – روس چین نے حال ہیں ایران کو جدید EV ٹیکنالوجی فراہم کی ہے جس میں ڈرون کو جام کرکے گرادیا ہو جیسے 2019 میں ایران نے امریکی ڈرون کو جام کرکے لینڈ کرایا تھا-

امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واقعی یہ سچ ہے تو امریکا کا بہت بڑا نقصان ہے کیوں کہ ایک MQ-4C Triton کی قیمت 180 ملین ڈالر سے زائد بتائی گئ ہے- پھر امریکی حملے سے قبل اتنا بڑا نقصان امریکا کے لیے سٹرٹیجک دھچکا اور ایران کے حوصلوں کو بڑھانے کا باعث ہے –

یاد رہے امریکا نے بھی ایک ایران ڈرون کو مار گرانے کا دعوی کیا تھا۔جس میں 4 فروری 2026 کو امریکی F-35 جہاز نے ایرانی جاسوس ڈرون شاہد 139 کو اس وقت مار گرایا تھاجب وہ امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن کے قریب پرواز کررہا تھا۔تاہم ایران نے امریکی دعوے کی تردید کی تھی

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button