
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
سوشل میڈیا پر ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی پہلی عوامی جھلک سے متعلق ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم ماہرین نے اس ویڈیو کی حقیقت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
وائرل کلپ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک فوجی آپریشن روم میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈرز ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ ویڈیو کے پس منظر میں اسرائیل کے حساس ڈیمونا جوہری ری ایکٹر کا نقشہ بھی دکھایا گیا ہے، جسے بعض حلقے ممکنہ فوجی منصوبہ بندی کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
یہ ویڈیو ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت بیانات نے بھی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

تاہم الجزیرہ کی اوپن سورس تحقیقاتی ٹیم نے اس ویڈیو کا تفصیلی تجزیہ کیا، جس میں انکشاف ہوا کہ یہ ویڈیو دراصل مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ویڈیو میں موجود افراد کے چہروں میں غیر معمولی بگاڑ، حرکات کی غیر فطری سست رفتار، اور مجموعی بصری خامیاں واضح طور پر اس کی مصنوعی نوعیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اسی طرح ویڈیو میں دکھایا گیا ڈیمونا ری ایکٹر کا نقشہ بھی تکنیکی طور پر درست نہیں پایا گیا، جو کسی حقیقی فوجی آپریشن روم کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
مزید برآں، کسی مستند ایرانی سرکاری یا بڑے میڈیا ادارے نے اس ویڈیو یا مجتبیٰ خامنہ ای کی ایسی کسی عوامی سرگرمی کی تصدیق نہیں کی، جس سے اس کی ساکھ مزید کمزور ہو جاتی ہے۔
یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای حالیہ دنوں میں ایران کی قیادت سنبھالنے کے حوالے سے خبروں میں ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک مبینہ حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم اس حوالے سے بھی مکمل اور آزادانہ تصدیق شدہ معلومات محدود ہیں۔
دفاعی اور ڈیجیٹل ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ویڈیوز (ڈیپ فیک) تیزی سے پھیل رہی ہیں، جو نہ صرف عوامی رائے کو متاثر کر سکتی ہیں بلکہ حساس جغرافیائی و سیاسی حالات میں غلط فہمیوں کو بھی جنم دے سکتی ہیں۔
ماہرین نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایسی ویڈیوز کو بغیر تصدیق کے شیئر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ معلوماتی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔



