
(تازہ حالات رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی کوششوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد اگرچہ کچھ پیش رفت کی بات کی گئی، تاہم وائٹ ہاؤس کے حالیہ بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی کے لیے "کئی وجوہات اور دلائل” موجود ہیں۔ اسی دوران امریکی اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں خطے میں غیرمعمولی فوجی نقل و حرکت کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے دو طیارہ بردار بحری جہاز، سیکڑوں جنگی طیارے اور 150 سے زائد کارگو پروازیں مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کی ہیں، جبکہ اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تل ابیب چند دنوں میں ممکنہ تصادم کے لیے تیاریاں کر رہا ہے۔
ماہرین اور مبصرین نے چند ایسے عوامل کی نشاندہی کی ہے جو موجودہ حالات کو جنگ کے قریب لے جا سکتے ہیں:
۔1 طویل النووی تنازع
امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات کئی ماہ سے جاری ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ماضی میں مذاکرات کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد خطے میں محدود فوجی کارروائی ہو چکی ہے، جس کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بار اگر فوجی آپشن اختیار کیا گیا تو دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے۔
۔ 2اندرونی احتجاج اور دباؤ
گزشتہ برس ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔ اگرچہ امریکا نے اس دوران براہِ راست کارروائی سے گریز کیا، تاہم اب خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جسے دباؤ کی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے۔

۔3 فوجی تیاری اور "پیغام”
سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر اتنی بڑی عسکری تیاری کی جا رہی ہے تو کیا یہ محض دباؤ ڈالنے کے لیے ہے یا اس کے پیچھے عملی اقدام کا ارادہ بھی موجود ہے؟ دو طیارہ بردار جہازوں اور درجنوں لڑاکا طیاروں کی تعیناتی کو غیرمعمولی قدم سمجھا جا رہا ہے۔
۔4 اسرائیل کا کردار
اطلاعات کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان قریبی مشاورت جاری ہے۔ اسرائیلی قیادت ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو براہِ راست خطرہ قرار دیتی رہی ہے۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو اسرائیل زیادہ وسیع فوجی کارروائی کا حامی ہو سکتا ہے۔

۔ 5ایرانی نظام کی کمزوری کا تاثر
کچھ مغربی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ داخلی دباؤ، اقتصادی پابندیاں اور علاقائی تنازعات کے باعث ایران کمزور پوزیشن میں ہے، جسے ممکنہ کارروائی کے لیے سازگار لمحہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اس تاثر پر اختلاف بھی پایا جاتا ہے اور ایرانی حکام کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

۔6 تیل کی عالمی منڈی
توانائی کے ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی منڈی میں رسد نسبتاً بہتر ہے اور قیمتیں قابو میں ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر کشیدگی بڑھی بھی تو قیمتوں میں اضافہ محدود اور عارضی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ تیل کی ترسیل مکمل طور پر متاثر نہ ہو۔



