جنگ جاری، مگر خزانہ خالی — یوکرین کو فنڈز کی شدید کمی

یوکرین کو جاری جنگ کے دوران اپنے دفاعی اخراجات پورے کرنے کے لیے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ملک کے پاس جنگ جاری رکھنے کے لیے درکار وسائل ختم ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی اور مقامی حکام کے اندازوں کے مطابق یوکرین کے پاس اس وقت صرف محدود فنڈز موجود ہیں، جو زیادہ سے زیادہ جون تک اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد اگر بیرونی امداد میں اضافہ نہ ہوا تو ملک کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کی معیشت پہلے ہی جنگ کے باعث شدید دباؤ میں ہے، جبکہ دفاعی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ مغربی ممالک، خاص طور پر یورپی یونین اور امریکا، اب تک یوکرین کی مالی اور عسکری مدد میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں اس امداد میں سست روی دیکھنے میں آئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امداد میں کمی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں مغربی ممالک کی اندرونی سیاسی صورتحال، بجٹ کے مسائل اور عالمی ترجیحات میں تبدیلی شامل ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو یوکرین کے لیے جنگی حکمت عملی برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

یوکرینی حکام اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نئے مالی ذرائع تلاش کر رہے ہیں، جن میں قرضوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مدد اور دفاعی صنعت میں شراکت داری جیسے اقدامات شامل ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ فوری مالی مدد کے بغیر صورتحال تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب محاذ جنگ پر بھی دباؤ برقرار ہے، جہاں جدید ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے اخراجات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور عوامی ضروریات کو پورا کرنا بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر یوکرین کو بروقت مالی امداد نہ ملی تو نہ صرف اس کی دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ ملک کی مجموعی معیشت بھی شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کے لیے یہ ایک اہم امتحان ہے کہ وہ یوکرین کی کس حد تک مالی مدد جاری رکھتی ہے، کیونکہ یہی مدد جنگ کے مستقبل اور خطے کے استحکام کا تعین کر سکتی ہے۔



