
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
دبئی / واشنگٹن: مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہ راست فوجی تصادم نے نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اس جنگ کے سب سے سنگین معاشی اثرات خلیج کے تجارتی اور سیاحتی حب (Hub)، متحدہ عرب امارات (UAE) پر پڑ رہے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، ایرانی میزائل حملوں اور فضائی حدود کی غیر یقینی صورتحال کے باعث دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ مسلسل 13 ویں روز بھی مکمل طور پر بند ہے، جس سے ہونے والا مالی نقصان ہوشربا حد تک پہنچ گیا ہے۔
دبئی ایئرپورٹ کی بندش: منٹوں کا نقصان، اربوں کا خسارہ

دبئی ایئرپورٹ دنیا کے مصروف ترین ایئرپورٹس میں سے ایک ہے، جہاں ہر منٹ سینکڑوں مسافر اور ٹنوں کارگو گزرتا ہے۔ عسکری اور معاشی ماہرین کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق، اس ایئرپورٹ کے آپریشنز کی صرف ایک منٹ کی بندش سے متحدہ عرب امارات کی معیشت کو 1 ملین (10 لاکھ) ڈالر کا براہ راست نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
اگر اس حساب کتاب کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو حقائق انتہائی تشویشناک ہیں:
- روزانہ کا نقصان: چونکہ ایک دن (24 گھنٹوں) میں 1440 منٹ ہوتے ہیں، لہذا روزانہ کی بنیاد پر دبئی ایئرپورٹ بند ہونے سے 1.44 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
- 13 دنوں کا مجموعی خسارہ: آج اس جنگ کو 13 دن مکمل ہو چکے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ صرف دبئی ایئرپورٹ کی بندش سے اب تک 18.72 ارب ڈالر کا معاشی دھچکا لگ چکا ہے۔
عالمی سپلائی چین تباہ، علاقائی بندرگاہیں بھی ٹھپ

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 18 ارب ڈالر تو صرف ایک ایئرپورٹ کا نقصان ہے، اصل معاشی تباہی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر باقی خطے کے ایئرپورٹس، جیسے کہ ابوظہبی، قطر اور سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جائے، اور ساتھ ہی خلیج فارس میں بندرگاہوں، کارگو شپس، اور آئل ٹینکروں (Referencing visual context) کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کو شامل کیا جائے، تو یہ روزانہ کا نقصان کئی ارب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔
خلیج فارس، جو عالمی توانائی کا مرکزی راستہ ہے، اس وقت ایک جنگی زون بن چکا ہے۔ کارگو شپنگ لائنز مکمل طور پر معطل ہیں، جس سے بین الاقوامی سپلائی چین تباہ ہو چکی ہے، اور پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان دستک دے رہا ہے۔



