(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل کے 22 سابق اعلیٰ سیکیورٹی عہدیداروں نے وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کو خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کا بڑھتا ہوا تشدد نہ صرف خطے کی صورتحال کو بگاڑ رہا ہے بلکہ خود اسرائیلی ریاست کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سابق سیکیورٹی سربراہان، جن میں فوج، انٹیلیجنس اور پولیس کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں، نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیاں اسرائیل کی سلامتی، قانون کی حکمرانی اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان واقعات کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف داخلی عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کو سفارتی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اداروں کو بلا امتیاز قانون نافذ کرنا ہوگا تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔
مغربی کنارے میں حالیہ مہینوں کے دوران کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں، املاک کو نقصان پہنچانے اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے جیسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کے ادارے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سابق سیکیورٹی اہلکاروں کی یہ وارننگ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ افراد ماضی میں اسرائیل کے حساس ترین اداروں کی قیادت کر چکے ہیں اور ان کی رائے کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اسرائیل کی داخلی پالیسیوں اور مغربی کنارے میں جاری بستیوں کے پھیلاؤ سے جڑی ہوئی ہے، جو طویل عرصے سے بین الاقوامی تنازع کا حصہ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف مقامی سطح پر مزید تشدد کو جنم دے سکتا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو بھی مزید بڑھا سکتا ہے۔