امریکاتازہ ترین

واشنگٹن میں ڈرون خطرہ، امریکی فوج کا لیزر دفاعی نظام لانے پر غور

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں حالیہ دنوں میں مشکوک ڈرونز کی پروازوں نے سیکیورٹی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے بعد پینٹاگون ایک جدید اینٹی ڈرون لیزر سسٹم تعینات کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جدید لیزر ٹیکنالوجی، جسے “لوکسٹ” (LOCUST) کہا جاتا ہے، ڈرونز کو فضا میں ہی نشانہ بنا کر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس نظام کو پہلے امریکا-میکسیکو سرحد پر بھی آزمایا جا چکا ہے، جہاں اسے غیر قانونی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق امریکی فوج اس ٹیکنالوجی کو واشنگٹن کے جنوب مغربی علاقے میں واقع فورٹ لیسلی جے میک نیئر (Fort McNair) کے قریب نصب کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ وہی حساس مقام ہے جہاں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی رہائش گاہیں موجود ہیں، جس کی وجہ سے سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں اس علاقے کی فضائی حدود میں غیر معمولی ڈرون سرگرمی دیکھی گئی، جس نے امریکی حکام کو ممکنہ نگرانی یا جاسوسی کے خدشات پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، ان واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

اگرچہ حکام نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن دفاعی ماہرین کے مطابق اینٹی ڈرون لیزر سسٹم کی تعیناتی نہ صرف حساس شخصیات کے تحفظ کو یقینی بنا سکتی ہے بلکہ مستقبل میں ممکنہ فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگی حکمت عملی میں ڈرونز کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور ان کے خلاف مؤثر دفاعی نظام تیار کرنا ہر ملک کی ترجیح بنتا جا رہا ہے۔ لیزر ہتھیار اس حوالے سے ایک نئی اور مؤثر ٹیکنالوجی سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ یہ تیزی سے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں اور روایتی میزائل سسٹمز کے مقابلے میں کم لاگت کے حامل ہوتے ہیں۔

دوسری جانب کچھ تجزیہ کار اس اقدام کو دارالحکومت میں سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات کی علامت قرار دے رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید دور میں خطرات صرف زمینی نہیں بلکہ فضائی سطح پر بھی بڑھ چکے ہیں۔

فی الحال امریکی فوج اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے، اور حتمی فیصلہ آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button