ایرانتازہ ترین

ایران کے اندر کیا ہو رہا ہے؟ صورتحال کیوں غیر یقینی ہو گئی؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران-اسرائیل جنگ ایک حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ایک طرف تہران میں اندرونی دباؤ اور انتشار کے آثار سامنے آ رہے ہیں، تو دوسری جانب ایرانی نظام اب بھی برقرار ہے اور سخت ردعمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے مختلف علاقوں میں انتظامی کمزوری، بے یقینی اور کنٹرول کی کمی دیکھی جا رہی ہے، تاہم ملک کی طاقتور فورس اسلامک ریوولوشنری گارڈ کور (IRGC) نے عملی طور پر ریاستی معاملات سنبھال لیے ہیں اور جنگی حکمت عملی کی قیادت کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی قیادت نے اب تک کسی قسم کی پسپائی یا امریکی مطالبات ماننے کا کوئی واضح اشارہ نہیں دیا۔ اس کے برعکس حالیہ دنوں میں ردعمل مزید سخت ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اس جنگ کو طویل کرنے کے لیے تیار ہے۔

امریکہ اور اسرائیل اس جنگ میں بڑے اسٹریٹجک اہداف پر متفق دکھائی دیتے ہیں، جن میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، اس کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروگرام کو محدود کرنا، اور خطے میں اس کے عسکری اثر و رسوخ کو کم کرنا شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اہداف فوری نہیں بلکہ طویل المدتی ہیں، جن کے مکمل نتائج سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

تاہم حکمت عملی میں دونوں کے درمیان فرق بھی واضح ہے۔ اسرائیل ایرانی نظام کو کمزور کر کے عوامی سطح پر تبدیلی لانے کا خواہاں ہے، جبکہ امریکہ مکمل نظام تبدیلی کے بجائے قیادت میں محدود تبدیلی پر بھی راضی ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوج براہِ راست نظام گرانے کے بجائے دیگر اہم اہداف پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے خدشات نے عالمی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے۔ یہ اہم سمندری راستہ عالمی تیل سپلائی کے لیے نہایت اہم ہے، اور اس کی بندش سے توانائی بحران اور عالمی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس راستے کو کھلا رکھنے کے لیے سرگرم ہیں۔

دوسری جانب ایران نے اس جنگ کے لیے پہلے سے بھرپور تیاری کر رکھی تھی۔ اہم فوجی اثاثے زیرِ زمین منتقل کیے گئے، میزائل اور ڈرون نظام کو مختلف علاقوں میں تقسیم کیا گیا، اور مقامی کمانڈرز کو خودمختار اختیارات دیے گئے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کارروائی جاری رکھی جا سکے۔

جوہری پروگرام اب بھی اس تنازع کا سب سے حساس پہلو ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کے پاس بڑی مقدار میں افزودہ یورینیم موجود ہے، جسے مزید بڑھا کر کم وقت میں جوہری صلاحیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس مواد کو زیرِ زمین تنصیبات میں محفوظ رکھا گیا ہے، جس تک رسائی ختم کیے بغیر جنگ کے مقاصد مکمل نہیں سمجھے جا سکتے۔

میزائل اور ڈرون حملوں کے محاذ پر اسرائیل مسلسل کارروائیاں کر رہا ہے۔ فضائیہ اور ڈرونز کے ذریعے میزائل لانچرز، ذخیرہ گاہوں اور سرنگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دفاعی نظام کی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے، اور میزائل روکنے کی شرح پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی ہے، جس سے شہری نقصانات میں کمی آئی ہے۔

تاہم ایران نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے کلسٹر وارہیڈز کا استعمال بڑھا دیا ہے، جو ایک ہی میزائل سے متعدد چھوٹے دھماکوں کے ذریعے وسیع علاقے کو نشانہ بناتے ہیں، جس سے دفاعی نظام کے لیے چیلنج مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور سیاسی دباؤ کی حکمت عملی بھی اپنائی جا رہی ہے۔ سکیورٹی تنصیبات اور اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی بے چینی کو بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ایران کے اندر بددلی اور اختلافات کے آثار بھی سامنے آ رہے ہیں، تاہم بڑے پیمانے پر عوامی ردعمل ابھی واضح نہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ بعض اہداف جلد حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن مجموعی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ تنازع مزید چند ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز اور علاقائی سکیورٹی سے متعلق مسائل کی وجہ سے۔

مجموعی طور پر جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں فوری نتیجہ سامنے آنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دونوں فریق اپنی حکمت عملی پر قائم ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، اور آنے والے دن اس تنازع کے مستقبل کا رخ متعین کریں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button