امریکاتازہ ترین

عالمی کشیدگی کے بیچ کم جونگ اُن کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ ٹرمپ سے رابطے کی بحث

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کے بعد عالمی سیاست میں ایک نیا سوال زیرِ بحث آ گیا ہے: کیا شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات پر دوبارہ غور کریں گے؟

سی این این کے تجزیہ کار ول رپلی کے مطابق ایران میں حالیہ واقعات اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد شمالی کوریا کی قیادت صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ کے لیے یہ ایک اہم لمحہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایران اور وینزویلا میں حالیہ واقعات نے دنیا بھر کی حکومتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ طاقتور رہنما بھی اچانک نشانہ بن سکتے ہیں۔

ایران کے واقعات سے پیانگ یانگ کی تشویش

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کو “جارحانہ جنگ” قرار دیا، تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا ذکر سرکاری بیانات میں نہیں کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ شمالی کوریا کی سیاسی ساخت ایک ایسے نظام پر قائم ہے جہاں رہنما کو تقریباً ناقابلِ تسخیر شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی دوسرے ملک کے طاقتور رہنما کے خاتمے کی خبر نمایاں طور پر نشر کی جائے تو اس سے شمالی کوریا کے عوام کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کوئی بھی رہنما مکمل طور پر محفوظ نہیں۔

کیا کم جونگ اُن ٹرمپ سے رابطہ کریں گے؟

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں کم جونگ اُن دوبارہ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ رابطہ قائم کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ کوریا رسک گروپ کے سربراہ چاڈ او کیرول کے مطابق کم جونگ اُن کے لیے ٹرمپ کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے، کیونکہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اکثر غیر متوقع رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ کم جونگ اُن کی جگہ ہوتے تو اس سال کسی نہ کسی شکل میں مذاکرات کی کوشش ضرور کرتے تاکہ صورتحال کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔

ماضی کا تجربہ اور سبق

تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ 2019 میں ویتنام کے شہر ہنوئی میں ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد شمالی کوریا نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور امریکہ کے ساتھ رابطے کم کر دیے جبکہ میزائل تجربات دوبارہ شروع کر دیے۔

اس کے بعد پیانگ یانگ نے روس کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے۔ روس اور یوکرین جنگ کے دوران شمالی کوریا نے ماسکو کو اسلحہ فراہم کیا جبکہ مبصرین کے مطابق اسے بدلے میں توانائی، خوراک اور بعض فوجی ٹیکنالوجی حاصل ہوئی۔

جوہری ہتھیار: شمالی کوریا کا سب سے بڑا دفاع

ماہرین کے مطابق ایران اور دیگر ممالک کے مقابلے میں شمالی کوریا کو ایک بڑی اسٹریٹجک برتری حاصل ہے اور وہ اس کے جوہری ہتھیار ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پیانگ یانگ کے پاس درجنوں جوہری وار ہیڈز موجود ہیں اور اس کے میزائل امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم دفاعی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جدید انٹیلی جنس اور نگرانی کے نظام کی موجودگی میں صرف جوہری صلاحیت بھی مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتی۔

مستقبل کی ممکنہ سمت

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے حالیہ واقعات نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا سخت فوجی طاقت کے دور میں سفارتکاری واقعی کشیدگی کو کم کر سکتی ہے یا نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کم جونگ اُن کے لیے زیادہ خطرناک راستہ کون سا ہے:
امریکی صدر ٹرمپ سے رابطہ کرنا یا مکمل خاموشی اختیار کرنا۔

ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں شمالی کوریا کی خارجہ پالیسی اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات عالمی سیاست میں ایک اہم موضوع بن سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button