
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن/تہران/تل ابیب: مشرق وسطیٰ میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں بظاہر فوجی کامیابیاں واضح ہیں، لیکن حتمی برتری کا تعین ابھی ممکن نہیں۔ ماہرین کے مطابق جدید جنگ صرف ہتھیاروں کی طاقت سے نہیں بلکہ حکمت عملی، وقت اور برداشت سے بھی جیتی جاتی ہے۔
ابتدائی مرحلے میں امریکہ اور اسرائیل کو برتری
تجزیوں کے مطابق جنگ کے پہلے مرحلے میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بھرپور اور منظم کارروائیاں کیں۔ سینکڑوں طیاروں، میزائلوں اور بحری طاقت کے استعمال سے ایران کے کئی فوجی مراکز، میزائل لانچرز اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق صرف چند ہفتوں میں ایران کو ہزاروں حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اس کی عسکری صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ میدان میں واضح برتری حاصل کر چکے ہیں۔
لیکن جنگ صرف اعداد و شمار سے نہیں جیتی جاتی
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف فوجی کامیابی یا ٹیکنالوجی برتری جنگ جیتنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ جنگ کا اصل نتیجہ طویل مدت میں سامنے آتا ہے، جہاں وسائل، عوامی حمایت اور حکمت عملی زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

امریکہ کو نہ صرف مسلسل دفاعی نظام برقرار رکھنا ہے بلکہ تیل بردار جہازوں کی حفاظت، اتحادی ممالک کا دفاع اور خطے میں اپنی موجودگی بھی برقرار رکھنی ہے، جو ایک مہنگا اور پیچیدہ عمل ہے۔
ایران کی حکمت عملی: کمزور ہو کر بھی مؤثر
دوسری جانب ایران نے روایتی دفاع کے بجائے ایک مختلف حکمت عملی اپنائی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران نے براہ راست بڑی جنگ جیتنے کے بجائے دشمن کے لیے اخراجات بڑھانے پر توجہ دی ہے۔
ایران نے خاص طور پر خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات اور اہم اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے عالمی مارکیٹ متاثر ہوئی اور دباؤ میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت نے بھی عالمی سطح پر تشویش پیدا کی۔
جنگ کا نیا رخ: “پچھلا محاذ” اہم
تجزیہ کاروں کے مطابق جدید جنگ صرف محاذ پر نہیں بلکہ معیشت، توانائی، انفراسٹرکچر اور عوامی برداشت پر لڑی جاتی ہے۔ روس-یوکرین جنگ کی طرح یہاں بھی واضح ہو رہا ہے کہ طاقتور فریق بھی فوری فتح حاصل نہیں کر سکتا۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
ماہرین کے مطابق جنگ کے دوسرے مرحلے میں:
- اسرائیل ایران کے فوجی ڈھانچے کو مزید کمزور کرنے کی کوشش کرے گا
- امریکہ بحری راستوں کو محفوظ بنانے اور اتحادیوں کے دفاع پر توجہ دے گا
- ایران ممکنہ طور پر نئے ہتھیار یا حکمت عملی استعمال کر سکتا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں
جنگ ابھی ختم نہیں
مبصرین کے مطابق اس وقت کوئی واضح فاتح نہیں ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کو فوجی میدان میں برتری حاصل ہے، لیکن ایران اب بھی جنگ کو طویل اور پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، یہ جنگ ایک ایسے مرحلے میں ہے جہاں فوری کامیابی کے دعوے اپنی جگہ، لیکن اصل فیصلہ وقت، وسائل اور حکمت عملی ہی کرے گی۔



