سعودی پالیسی میں نیا موڑ؟ کیا ابراہام معاہدے پس منظر میں جا رہے ہیں؟

ریاض کی یونان فائبر آپٹک کیبل روٹ میں اسرائیل کے بجائے شام کو شامل کرنے کی خواہش
ریاض/ایتھنز: خطے میں بدلتے اتحادوں کے تناظر میں سعودی عرب نے یونان تک مجوزہ فائبر آپٹک کیبل منصوبے کے لیے اسرائیل کے بجائے شام کو ٹرانزٹ ملک بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ علاقائی حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ایک معاشی منصوبہ ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی نئی سفارتی صف بندی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
منصوبہ کیا ہے؟
“ایسٹ ٹو میڈ ڈیٹا کوریڈور” (EMC) کے نام سے معروف اس منصوبے کا اعلان 2022 میں کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد سعودی عرب کو بحیرۂ روم کے ذریعے یونان سے جوڑنا ہے تاکہ ڈیجیٹل ڈیٹا، خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) اور کلاؤڈ سروسز سے متعلق معلومات، یورپ تک تیزی سے منتقل کی جا سکیں۔
ابتدائی منصوبے میں کیبل کا راستہ سعودی عرب، اردن اور اسرائیل سے ہوتا ہوا یونان تک پہنچنا تھا۔ تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق ریاض چاہتا ہے کہ یہ راہداری اسرائیل کے بجائے شام سے گزرے۔
علاقائی سیاست میں تبدیلی
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلی اس بات کا اشارہ ہے کہ سعودی عرب شام کو دوبارہ علاقائی دھارے میں لانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ کھلے روابط سے گریز کر رہا ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان حالیہ مہینوں میں اسرائیل پر سخت تنقید کر چکے ہیں، خصوصاً غزہ کی صورتحال کے حوالے سے۔ اس پس منظر میں کیبل روٹ کی تبدیلی کو سیاسی پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے۔

ایک مغربی عہدیدار کے بقول، “ریاض چاہتا ہے کہ خطے میں سڑکیں، ریل اور ڈیجیٹل کیبلز دمشق سے گزریں، تاکہ شام کو علاقائی مرکز بنایا جا سکے۔”
شام میں سرمایہ کاری
سعودی ٹیلی کام کمپنی (STC) نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ شام کے ٹیلی کمیونی کیشن انفراسٹرکچر میں تقریباً 800 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ منصوبے کے تحت 4,500 کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھایا جائے گا تاکہ شام کو علاقائی اور عالمی ڈیجیٹل نظام سے جوڑا جا سکے۔
یونان کی حکمتِ عملی
یونان خود کو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان توانائی اور ڈیجیٹل راہداری کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ ایتھنز کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں، خاص طور پر مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کے اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے۔
اگر سعودی عرب واقعی اسرائیل کو اس منصوبے سے الگ کرتا ہے تو یہ یونان کے لیے ایک سفارتی چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ اسے دونوں فریقوں کے ساتھ توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
ڈیجیٹل معیشت کی دوڑ
فائبر آپٹک کیبلز جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔ خلیجی ممالک خود کو مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کے عالمی مراکز کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یورپ تک محفوظ اور تیز رفتار ڈیجیٹل راستہ اس حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر شام کے راستے کو عملی شکل دی جاتی ہے تو یہ نہ صرف ڈیجیٹل نقشہ بدل دے گا بلکہ خطے میں سیاسی توازن پر بھی اثر انداز ہوگا۔
کیا منصوبہ آگے بڑھے گا؟
ماضی میں مشرقی بحیرۂ روم میں کئی بڑے انفراسٹرکچر منصوبے سیاسی اختلافات کی نذر ہو چکے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ EMC منصوبہ تکنیکی اور مالی لحاظ سے قابلِ عمل دکھائی دیتا ہے، بشرطیکہ علاقائی استحکام برقرار رہے۔
سعودی عرب کا یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل راہداریوں کی جنگ اب صرف ٹیکنالوجی کی نہیں بلکہ سفارت کاری اور جغرافیائی سیاست کی بھی ہے۔ آنے والے مہینوں میں واضح ہوگا کہ آیا شام واقعی اس نئی ڈیجیٹل شاہراہ کا مرکزی دروازہ بنتا ہے یا نہیں۔



