ایرانتازہ ترین

علی لاریجانی کون تھے؟ اسرائیل نے کیوں قتل کیا؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیلی وزیرِ دفاع کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ تہران میں حالیہ حملوں کے دوران ایران کے اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں علی لاریجانی اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی شامل ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب، علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایک ہاتھ سے لکھی گئی تعزیتی تحریر جاری کی گئی، جس میں ایرانی بحریہ کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس پیغام نے ان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔

علی لاریجانی کون ہیں؟

علی لاریجانی ایران کی سیاست میں ایک طویل عرصے سے کلیدی کردار ادا کرتے آئے ہیں اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایک بااثر اور فیصلہ کن شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

1957 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہونے والے لاریجانی نے اپنی سیاسی زندگی میں کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں:

  • ایران کے سرکاری ریڈیو و ٹیلی ویژن کے سربراہ (1994–2004)
  • سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری
  • ایرانی پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ) کے اسپیکر (2008–2020)
  • اعلیٰ قیادت کے مشیر برائے بین الاقوامی امور

انہوں نے 2005 کے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیا اور بعد ازاں ایران کے جوہری معاہدے کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا۔

"جنگ کے دور کا رہنما”

مبصرین کے مطابق حالیہ ایران-امریکہ-اسرائیل کشیدگی کے دوران علی لاریجانی کو "رجلِ مرحلہ” یعنی مشکل وقت کا رہنما قرار دیا جا رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں ان کی عوامی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر یوم القدس کے موقع پر ان کی شرکت کو ایک اہم سیاسی اشارہ سمجھا گیا۔ یہ ایک غیر معمولی قدم تھا کیونکہ ایران کے اعلیٰ عہدیدار عام طور پر ایسے عوامی مظاہروں میں کم نظر آتے ہیں۔

لاریجانی نے حالیہ بیانات میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کا "جواب ضرور دے گا” اور کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیلی دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کو ایک نئی سطح پر لے جا سکتے ہیں۔ ایران پہلے ہی امریکی اڈوں پر حملوں کا عندیہ دے چکا ہے، جبکہ اس کی علاقائی اتحادی تنظیمیں بھی متحرک دکھائی دیتی ہیں۔

دوسری جانب، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے دعوے نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں، جن کا مقصد ایران کے اندرونی نظام کو دباؤ میں لانا ہے۔

مستقبل کیا ہو گا

علی لاریجانی کو ایران کے سیاسی نظام میں ایک "توازن پیدا کرنے والی شخصیت” سمجھا جاتا تھا، جو سخت گیر اور معتدل حلقوں کے درمیان رابطہ قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتےتھے۔

ان کو قتل تو کر دیا ہے لیکن اب اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاست اور سیکیورٹی صورتحال پر گہرے ہوں گے۔


فی الحال، عالمی برادری کی نظریں تہران اور تل ابیب دونوں پر مرکوز ہیں، جبکہ آنے والے دن اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button