ایرانتازہ ترین

ایران کے پاس دو فوجیں کیوں ہیں؟ جنگ کے دوران فوج اور پاسدارانِ انقلاب کا کردار

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایک اہم سوال دوبارہ زیرِ بحث آ گیا ہے کہ Iran کے پاس دو الگ فوجی ادارے کیوں ہیں اور ان کے کردار میں کیا فرق ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کا فوجی نظام دانستہ طور پر دو بڑے اداروں پر مشتمل ہے: ایک روایتی فوج اور دوسرا پاسدارانِ انقلاب، جن کے فرائض اور نظریاتی بنیادیں مختلف ہیں۔

یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کو ایک بڑی سکیورٹی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران ایران کی قیادت میں تبدیلی بھی ہوئی اور Mojtaba Khamenei نے نئی قیادت سنبھالی۔

دو فوجی اداروں کا پس منظر

ایران کی روایتی فوج، جسے ارتش (Artesh) کہا جاتا ہے، دراصل 1979 کے انقلاب سے پہلے شاہ ایران کی فوج کا ہی تسلسل ہے جسے انقلاب کے بعد نئے ڈھانچے کے ساتھ برقرار رکھا گیا۔ اس فوج کا بنیادی مقصد ملک کی سرحدوں کا دفاع اور قومی خودمختاری کا تحفظ ہے۔

اس کے مقابلے میں Islamic Revolutionary Guard Corps یعنی پاسدارانِ انقلاب کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد صرف سرحدوں کا دفاع نہیں بلکہ “انقلاب اور نظام” کا تحفظ بھی ہے، اور اس کی وفاداری براہِ راست سپریم لیڈر کے ساتھ ہوتی ہے۔

ذمہ داریاں اور طاقت

ماہرین کے مطابق دونوں اداروں کے کردار میں واضح فرق موجود ہے۔ روایتی فوج بنیادی طور پر دفاعی ذمہ داریاں سنبھالتی ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کو ایران کی اسٹریٹجک طاقت کا اصل مرکز سمجھا جاتا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے پاس بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کی قیادت ہے۔ اسی کے تحت ایرو اسپیس فورس ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ قدس فورس بیرونِ ملک آپریشنز اور علاقائی نیٹ ورکس کے ساتھ رابطوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

دوسری طرف ایرانی فوج چار بڑی شاخوں پر مشتمل ہے جن میں زمینی فوج، فضائیہ، بحریہ اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔ اس کا بنیادی کام بیرونی حملے کی صورت میں ملک کی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے۔

جنگ میں دونوں کا کردار

موجودہ جنگ میں دونوں اداروں کے کردار واضح طور پر سامنے آئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر زمینی حملہ ہوتا ہے تو روایتی فوج ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے، جبکہ عملی طور پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کی قیادت زیادہ تر پاسدارانِ انقلاب کر رہا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ خلیج میں تیز رفتار کشتیوں اور غیر روایتی حکمت عملی کے ذریعے کارروائیاں کرتی ہے، خصوصاً Strait of Hormuz جیسے حساس علاقوں میں۔

طاقت کا توازن

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ دوہرا فوجی نظام دراصل طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ فوجی طاقت ایک ہی ادارے کے ہاتھ میں مرکوز نہ ہو۔ اس نظام کا مقصد یہ بھی ہے کہ اگر ایک ادارہ شدید نقصان اٹھائے تو دوسرا ادارہ ریاستی ڈھانچے کو برقرار رکھ سکے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ جنگ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ایران کی دفاعی حکمت عملی میں پاسدارانِ انقلاب کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ روایتی فوج ایک بڑی دفاعی قوت کے طور پر پس منظر میں موجود رہتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس جنگ کے نتائج ایران کے فوجی ڈھانچے اور خطے کی طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button