
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ریاض: سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے عرب اور اسلامی ممالک کے ایک اہم مشاورتی اجلاس کے بعد ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ تہران کی پالیسیوں اور اقدامات ہیں۔
ریاض میں منعقد ہونے والے اس اعلیٰ سطح اجلاس میں مختلف عرب اور اسلامی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں خطے کی سکیورٹی صورتحال، بحری راستوں کی سلامتی اور باہمی تعلقات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے “جارحانہ اقدامات” قابلِ مذمت ہیں اور یہ رویہ خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی طرف سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی خطے میں اس پر اعتماد کو کمزور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ایسے اقدامات نہ صرف سفارتی تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔
فیصل بن فرحان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے بعض کارروائیاں پیشگی منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں، جس کے نتیجے میں اس کی علاقائی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحری راستوں میں مداخلت اور جہاز رانی کی آزادی کو متاثر کرنا بین الاقوامی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ شہریوں پر حملوں اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں سے لاتعلقی اختیار کرنا قابل قبول نہیں، اور اگر ایسے اقدامات جاری رہے تو ان کا جواب بھی اسی شدت سے دیا جائے گا۔ ان کے بقول، “کشیدگی میں اضافہ ہوگا تو ردعمل بھی اسی نوعیت کا ہوگا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا موجودہ طرزِ عمل اسے ایک قابلِ اعتماد اور جائز شراکت دار بننے سے روکتا ہے، اور جب تک یہ رویہ تبدیل نہیں ہوتا، خطے میں پائیدار امن کا قیام مشکل رہے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں اور خلیجی ممالک باہمی تعاون کے ذریعے ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے، تاہم کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی ناگزیر ہوں گے۔



