ایرانتازہ ترین

اصفہان پر بنکر بسٹر بموں سے حملہ کیوں کیا گیا؟ ماہرین نے اہم وجوہات بیان کر دیں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے شہر اصفہان پر حالیہ شدید فضائی حملوں کے بعد اس کی وجوہات پر بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں ایک عسکری ماہر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر مضبوط اور زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

فوجی و اسٹریٹجک تجزیہ کار کرنل نضال ابو زید کے مطابق اصفہان میں ایسے اہم فوجی اور صنعتی مراکز موجود ہیں جو انتہائی مضبوط حفاظتی نظام کے تحت زمین کے اندر قائم کیے گئے ہیں، اسی لیے انہیں تباہ کرنے کے لیے خاص طور پر “بنکر بسٹر” بم استعمال کیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے عام بمباری سے مختلف ہوتے ہیں اور صرف مخصوص جدید طیاروں جیسے ایف-16، ایف-35 یا اسٹریٹجک بمبار طیاروں کے ذریعے ہی ممکن ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اصفہان ایران کے اہم ترین دفاعی مراکز میں شامل ہے، جہاں نطنز کا جوہری پلانٹ، فوجی صنعتی کمپلیکس اور ڈرونز کی تیاری و ذخیرہ کرنے والے مراکز موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر کو جنگ کے دوران ایک اہم ہدف سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے حوالے سے بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اصفہان میں ایک بڑے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا، جس کے لیے بڑی مقدار میں طاقتور اور بکتر شکن ہتھیار استعمال کیے گئے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بھی شدید دھماکوں کے مناظر دکھائے گئے، جنہیں اصفہان کے حالیہ حملوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے اصفہان میں ایرانی اہداف پر شدید حملے کیے، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس کے ردعمل میں ایران نے اسرائیل پر ایک نئی میزائل لہر داغی، جس میں مبینہ طور پر کلسٹر میزائل استعمال کیے گئے۔ رپورٹس کے مطابق یہ حملے تل ابیب اور اس کے نواحی علاقوں جیسے پیتاح ٹکوا اور بنی براک کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران عام طور پر اسرائیل کے مرکزی علاقوں کو نشانہ بناتا ہے، جبکہ شمالی محاذ کو لبنان کی حزب اللہ کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ ان کے مطابق دیمونا اور بیرشیبہ کے صنعتی مراکز بھی ایران کے ممکنہ اہداف میں شامل ہیں۔

جنگ کے اثرات اسرائیل کے اندر بھی واضح ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق ہزاروں افراد اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق اصفہان پر حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ اب حساس اور اسٹریٹجک اہداف کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button