
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )معروف امریکی صحافی اور تجزیہ کار ٹکر کارلسن نے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل امریکہ کو ایران کے خلاف ایک تباہ کن جنگ میں دھکیلنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، اور موجودہ حالات میں یہ اس کے پاس ایسا کرنے کا ‘آخری موقع’ ہے۔
اپنے ایک حالیہ پاڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے، ٹکر کارلسن نے امریکی سیاست اور معاشرے کے اندر آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی جانب اشارہ کیا، جس نے مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اسرائیل کی جلد بازی کی اصل وجہ کیا ہے؟ کارلسن کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے امریکہ کو فوجی طاقت کے استعمال پر اکسانے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کی نئی اور نوجوان نسل نے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ، "یہ ممکن ہے کہ امریکی حکومت اپنے اس قریبی اتحادی (اسرائیل) کے رویے کو قابو میں کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہو۔" انہوں نے واضح کیا کہ آنے والے پانچ سالوں میں امریکی نوجوانوں کی ایک ایسی پوری ‘فوج’ سامنے آ جائے گی جو اسرائیل کے بیانیے کے سخت خلاف ہوگی۔

پابندیوں کے باوجود سوچ نہیں بدلی جا سکتی ریاستی کریک ڈاؤن اور دباؤ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، ٹکر کارلسن نے کہا کہ حکومتیں چاہیں تو کریک ڈاؤن کر سکتی ہیں، لوگوں کو گرفتار کر سکتی ہیں اور انٹرنیٹ تک بند کر سکتی ہیں (جیسا کہ حال ہی میں برطانیہ میں مظاہرین کے ساتھ ہوا)، لیکن اس کے باوجود صورتحال اب کبھی بھی پانچ سال پہلے جیسی نہیں ہو سکتی۔ ان کا پختہ یقین ہے کہ دباؤ کے باوجود امریکی نوجوان نسل کبھی بھی اسرائیل کی حمایت کی طرف واپس نہیں لوٹے گی۔
امریکی میڈیا کا کردار اور پراپیگنڈہ امریکی مین اسٹریم میڈیا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کارلسن نے دعویٰ کیا کہ آج کے دور میں اسرائیل کو صرف اور صرف امریکی میڈیا اداروں کی حمایت حاصل رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق، یہ میڈیا ادارے مبینہ طور پر جھوٹ اور اسرائیلی پراپیگنڈے کے ذریعے امریکی عوام کی سوچ کو مفلوج اور بے حس کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔
سیاسی منظر نامے میں بڑی تبدیلی کی پیشگوئی امریکی سیاست میں آنے والی اس واضح تبدیلی کو سمجھانے کے لیے انہوں نے امریکی کانگریس مین ‘تھامس میسی’ (Thomas Massie) کی مثال دی، جو اکثر امریکی ایوان میں اسرائیل کو فنڈنگ دینے اور جنگوں کی مخالفت کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرتے ہوئے کارلسن نے کہا: "آپ پرائمری الیکشنز میں ہر تھامس میسی کو سائیڈ لائن نہیں کر سکتے، اب ان جیسے (اسرائیل مخالف) سیاستدانوں کی ایک پوری فوج سامنے آ رہی ہے۔”
تجزیاتی پہلو: دفاعی اور سیاسی مبصرین کے مطابق، ٹکر کارلسن کا یہ بیان امریکہ کے اندر بدلتے ہوئے سماجی رجحانات کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ اگر واقعی امریکی عوام اور نئی قیادت کا جھکاؤ تبدیل ہو رہا ہے، تو یہ مستقبل قریب میں اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑا سفارتی اور اسٹریٹجک دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔



