اسرائیلتازہ ترین

کیا اسرائیل کو اب سفارتی حل کی طرف جانا ہوگا؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ماہرین اور تجزیہ کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کا پائیدار حل صرف سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، کیونکہ طویل جنگ دونوں ممالک کے لیے بھاری نقصانات کا باعث بن رہی ہے۔

اسرائیل میں ایران کو ایک دیرینہ اور سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر اس کے میزائل پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور حزب اللہ و حماس جیسے گروہوں کی حمایت کے باعث۔ یہی وجوہات اسرائیلی پالیسی میں سخت موقف اور فوجی کارروائیوں کو جواز فراہم کرتی رہی ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے تنازعات، جو بظاہر ناقابل حل دکھائی دیتے تھے، آخرکار مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوئے۔ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) اس کی ایک مثال ہے، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں اور عالمی نگرانی کو ممکن بنایا گیا۔ لیکن بعد میں امریکہ کے معاہدے سے نکلنے کے بعد صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے نتیجے میں ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، جہاں مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ، کرنسی کی قدر میں کمی اور صنعتی سرگرمیوں میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی معیشت بھی دباؤ میں ہے، جہاں دفاعی اخراجات میں اضافہ اور بجٹ خسارہ بڑھنے جیسے چیلنجز سامنے آ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل جنگ کسی بھی فریق کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی، اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب دونوں اطراف یہ محسوس کرتے ہیں کہ جنگ کے بجائے مذاکرات ہی بہتر راستہ ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سفارتکاری کا دروازہ کھلتا ہے۔

تاریخی مثالیں بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ سخت دشمنی کے باوجود امن ممکن ہوتا ہے۔ مصر اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں کی کشیدگی کے بعد امن معاہدہ ہوا، جبکہ اردن کے ساتھ بھی تعلقات معمول پر آئے۔ اسی طرح یورپ میں جرمنی اور فرانس جیسے ممالک، جو کبھی شدید دشمن تھے، آج شراکت دار بن چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ موجودہ حالات میں فوری سفارتی پیش رفت مشکل نظر آتی ہے، تاہم طویل المدتی استحکام کے لیے کسی نہ کسی مرحلے پر مذاکرات ناگزیر ہوں گے۔ بعض ماہرین یہ بھی تجویز دیتے ہیں کہ علاقائی امن منصوبے، جیسے عرب امن اقدام، ایک بنیاد فراہم کر سکتے ہیں جس کے ذریعے کشیدگی کم کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی واضح کیا جا رہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دونوں ممالک کو نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی اور سماجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ جاری رکھی جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کب اور کیسے سفارتکاری کا راستہ اختیار کیا جائے، کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ دیرپا امن ہمیشہ مذاکرات سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button