
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور توانائی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس کے بعد یہ اہم سوال سامنے آیا ہے کہ آیا امریکہ اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) سے مزید تیل جاری کر سکتا ہے یا نہیں۔
امریکہ پہلے ہی ایک بڑے عالمی اقدام کے تحت اپنے ذخائر سے تقریباً 172 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کر چکا ہے، جو کہ 32 ممالک کے ساتھ مل کر 400 ملین بیرل کے مشترکہ ریلیز پلان کا حصہ ہے۔
یہ اقدام خاص طور پر اس وقت سامنے آیا جب ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے متاثر ہوئے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ کے پاس اب بھی تقریباً 415 ملین بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں، تاہم یہ ذخیرہ اپنی مکمل گنجائش سے کافی کم سطح پر ہے، جس کی وجہ سے مزید بڑے پیمانے پر ریلیز ایک پیچیدہ فیصلہ بن چکا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ تکنیکی طور پر مزید تیل جاری کر سکتا ہے، لیکن اس کی رفتار محدود ہے۔ موجودہ نظام کے تحت روزانہ تقریباً 4.4 ملین بیرل سے زیادہ تیل مارکیٹ میں نہیں لایا جا سکتا، جس کا مطلب ہے کہ فوری اثر محدود ہوگا۔
دوسری جانب امریکی حکام اور عالمی ادارے اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ اگر بحران مزید بڑھتا ہے تو اضافی ذخائر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اسٹریٹجک ریزرو کا مقصد ہنگامی حالات میں عارضی ریلیف دینا ہے، نہ کہ طویل مدت تک مارکیٹ کو سہارا دینا۔

حالیہ بیانات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکہ اضافی تیل جاری کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ قیمتوں میں اضافہ روکا جا سکے، مگر ماہرین کے مطابق عالمی سپلائی میں بڑے خلا کو صرف ریزرو کے ذریعے پورا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
مزید برآں، کچھ تجاویز میں ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی یا دیگر ممالک کے ذخائر کے مشترکہ استعمال جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں، تاکہ عالمی مارکیٹ کو مستحکم کیا جا سکے۔
ماہرین کا مجموعی مؤقف یہ ہے کہ اگرچہ امریکہ کے پاس مزید تیل جاری کرنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن یہ حل عارضی ہوگا۔ اصل مسئلہ توانائی سپلائی کے بنیادی راستوں کی بحالی اور جغرافیائی کشیدگی میں کمی ہے۔
فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے، اور توانائی کی عالمی منڈیوں کا انحصار آنے والے دنوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے فیصلوں پر ہوگا، جو نہ صرف قیمتوں بلکہ عالمی معیشت کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔



