“فضائی دفاع روزانہ کی ضرورت ہے زیلنسکی کا میونخ کے بعد بڑا بیان، 24 فروری تک نئی امداد متوقع

(تازہ حالات رپورٹ )
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد یوکرین کو آئندہ دنوں میں نئے فوجی اور توانائی امدادی پیکجز ملنے کی توقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانا ہے، خاص طور پر بیلسٹک میزائل حملوں سے تحفظ کے لیے۔
میزائل دفاع اولین ترجیح
اپنے شام کے خطاب میں زیلنسکی نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں “نئی سپورٹ پیکجز” پر اتفاق ہوا ہے۔ ان کے مطابق 24 فروری تک — جو روسی مکمل حملے کی چوتھی برسی ہے — برلن فارمیٹ کے ممالک کی جانب سے مخصوص فوجی اور توانائی امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ روس کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں میں اضافے کے باعث فضائی دفاع یوکرین کے لیے “روزمرہ کی ضرورت” بن چکا ہے۔
توانائی بحران اور سرد موسم کا دباؤ
گزشتہ ہفتوں میں کیف سمیت کئی شہروں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے ہوئے، جنہوں نے بجلی گھروں، سب اسٹیشنز اور گرڈ کو نشانہ بنایا۔ شدید سردی میں ان حملوں نے ملک کو توانائی بحران کی طرف دھکیل دیا۔ زیلنسکی نے کہا کہ آئندہ ہفتے “نئے توانائی پیکجز” پر بھی بات ہوگی، جن میں مرمت، بحالی اور ضروری آلات کی فراہمی شامل ہوگی۔

سفارتی محاذ بھی سرگرم
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، یوکرین اور روس کے درمیان جنیوا میں سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع ہونے جا رہے ہیں۔ ڈونباس خطے کا مستقبل ان مذاکرات کا مرکزی نکتہ ہوگا۔
زیلنسکی نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا نے 15 سالہ سکیورٹی گارنٹی کی پیشکش کی ہے، تاہم کیف زیادہ طویل المدتی اور مضبوط تحفظ کا خواہاں ہے۔
مزید حملوں کا خدشہ

صدر زیلنسکی نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں روس مزید بڑے حملے کر سکتا ہے، خاص طور پر سرد موسم کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین اپنے تمام شراکت داروں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ دفاعی صلاحیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
جنگ کے چوتھے سال میں داخل ہوتے ہوئے یوکرین بیک وقت میدانِ جنگ، توانائی بحران اور سفارتی محاذ پر سرگرم ہے — اور فضائی دفاع اس کی قومی بقا کی حکمت عملی کا مرکزی ستون بن چکا ہے۔



